اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی)وفاقی حکومت نے اعلیٰ بیوروکریٹس کی ناقص کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سات اہم وزارتوں میں سیکریٹریز کی تعیناتی کیلئےنجی شعبے سے ماہرین کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سرکاری سطح پر اشتہار بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے اعلیٰ سرکاری بیوروکریسی کی کارکردگی سے مایوسی ظاہر کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اہم وزارتوں میں سیکریٹریز کی سطح پر نجی شعبے سے قابل اور تجربہ کار افراد کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
ڈان نیوز کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں سات وفاقی وزارتوں میں سیکریٹریز کی تقرری نجی شعبے سے کی جائے گی۔ ان وزارتوں میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ پٹرولیم، وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن)، وزارتِ صنعت و پیداوار، وزارتِ قومی غذائی تحفظ، وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی، اور وزارتِ ووکیشنل تربیت شامل ہیں۔
وفاقی حکومت نے نجی شعبے کے افراد کو ان کلیدی عہدوں پر لانے کیلئےباقاعدہ اشتہار جاری کر دیا ہے، جس میں مطلوبہ قابلیت، تجربہ، اور درخواست دینے کا طریقہ کار درج ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ اس تناظر میں سامنے آیا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز، توانائی بحران، اور صنعتی پیداوار میں کمی جیسے اہم معاملات میں بیوروکریسی کی کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش رہی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیاں مرتب کرنے اور ان پر مؤثر عملدرآمد کیلئے پرائیویٹ سیکٹر سے ماہرین کی شمولیت ناگزیر ہو چکی ہے۔وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام وقتی نوعیت کا نہیں بلکہ مستقبل میں پبلک سیکٹر میں اصلاحات کے ایک وسیع منصوبے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے سرکاری نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔
اعلیٰ بیوروکریسی پر اعتماد میں کمی اور جدید انتظامی اصلاحات کے پیش نظر حکومت کا نجی شعبے سے ماہرین کی بھرتی کا فیصلہ ملکی گورننس میں ایک بڑے تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس اقدام کے نتائج اور اس پر بیوروکریسی کا ردعمل اہمیت اختیار کرے گا۔

