پینتالیس سال قبل افغانستان میں اقتدار کی جنگ، سوویت مداخلت اور خانہ جنگی کے باعث لاکھوں افغانوں نے پاکستان کا رخ کیا۔ ان میں سے اکثریت نے جغرافیائی نزدیکی، ثقافتی ہم آہنگی اور تاریخی ربط کی بنیاد پر پاکستان کو اپنی پناہ گاہ بنایا۔ پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود ان مہاجرین کے لیے اپنی سرزمین کے دروازے کھول دیے۔ اتنے بڑے پیمانے پر مہاجرین کو پناہ دینے میں یقیناً ریاستی سیاست کا بھی کردار تھا، لیکن عوام کے لیے یہ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ انسانیت، ایثار اور بھائی چارے پر مبنی وہ عملی مظاہرہ تھا جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔
یہ سلسلہ وقت کے ساتھ جاری رہا۔ کبھی امریکی مفادات کی خاطر، کبھی امریکہ کی مخالفت میں، کبھی طالبان کے خوف سے، اور کبھی داخلی بدامنی کی وجہ سے افغان عوام نے بارہا پاکستان کو اپنی پناہ گاہ بنایا۔ لاکھوں انسانوں کو چھت، خوراک، تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ فراہم کرنے کی کوشش وہ بوجھ تھی جو پاکستان کی ریاست اور عوام نے صبر و قربانی کے ساتھ اٹھایا۔
پینتالیس سالہ پناہ، مہمان نوازی، لاکھوں زندگیاں، اربوں روپے کا معاشی بوجھ، اور ایک ایسی فراخ دلی جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہےـ مگر آج وہی افغان مہاجرین جنہیں پاکستان نے پناہ، تحفظ اور عزت دی، ان میں سے ایک بڑی تعداد اسی سرزمین کے خلاف زہر اگل رہی ہے اور پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ وہ اس کے خلاف زہریلا بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ معاملہ اب صرف تاثرات یا جذبات کی حد تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک منظم زہریلا بیانیہ بن چکا ہےـ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ، جھوٹے دعوے، اشتعال انگیزی، اور افسوسناک حد تک افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اگرچہ ریاستی پالیسیوں اور حکمت عملیوں میں یقیناً نقائص رہے ہیں، لیکن وہ پاکستانی عوام جنہوں نے ان مہاجرین کا ہمیشہ دل سے ساتھ دیا، آج انہی کی دہشت گردی اور زہریلے پروپیگنڈے کا نشانہ بن رہے ہیں۔
جو افغان مہاجرین پاکستان آئے، ان میں مختلف النوع لوگ شامل تھے۔ افغانستان میں سوویت یونین کے داخلے کے بعد ابتدا میں ایک بڑی تعداد ان افراد کی تھی جو نظریاتی، عسکری یا سیاسی ایجنڈے کے ساتھ یہاں آئے۔ انہوں نے “جہاد” کے نام پر نیٹ ورکس قائم کیے، نوجوانوں کی ذہن سازی کی، اور پاکستان کی سرزمین کو غیر ملکی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ انہیں یقیناً امریکہ، اس کے اتحادیوں، اُس وقت کی پاکستانی فوجی حکومت، بعض مذہبی سیاسی جماعتوں اور قبائلی رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔ یہی وہ لوگ تھے جنہیں مغرب نے “مجاہدین” کا لقب دیا، اور رونالڈ ریگن نے “آزاد دنیا کے ہیرو” قرار دیا۔ وقت نے دکھا دیا کہ ان میں سے کئی کے عزائم دینی یا قومی نہیں، بلکہ ذاتی مفادات، اقتدار کی ہوس اور دولت کے حصول پر مبنی تھے۔
کچھ افغان سیاسی وجوہات کی بنا پر پاکستان آئے۔ یہ سابق حکومتی عہدیدار، سیاسی کارکن، اور دانشور تھے، جنہوں نے پاکستان میں قیام کے دوران بین الاقوامی اداروں سے رابطے کیے اور بالآخر بیرونِ ملک منتقل ہونے کی راہیں نکالیں۔
ایک بڑی تعداد ان افغانوں کی بھی تھی جو صرف روزگار، تحفظ اور بہتر زندگی کی تلاش میں پاکستان آئے۔ انہوں نے شہروں میں غیر رسمی روزگار اختیار کیا اور خاموشی سے زندگی گزاری۔ سب سے مظلوم وہ تھے جنہوں نے صرف جان بچانے کے لیے ہجرت کی ـ خواتین، بچے، بزرگ، اور عام شہری، جن کا کسی سیاسی یا انتہاپسند تنظیم سے کوئی تعلق نہ تھا۔
بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ کچھ مہاجرین منشیات و اسلحہ کی اسمگلنگ، دہشت گردی، اور ریاستی اداروں پر حملوں جیسے سنگین جرائم میں بھی ملوث ہو گئے۔ یہی عناصر اب سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈے کو فروغ دے رہے ہیں، افغان عوام کو اکسا رہے ہیں، اور دشمن قوتوں کی زبان بول رہے ہیں۔
اب جب کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے، تو یہی عناصر بین الاقوامی برادری میں شور مچانے لگے ہیں، طرح طرح کے لغو الزامات لگا رہے ہیں، اور خود کو مظلوم ظاہر کر رہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا عمل شروع ہوا، تو رخصت ہونے والوں میں سے کئی ایک نے شکریہ ادا کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ کچھ پاکستانی حلقے بھی شعوری یا لاشعوری طور پر اس بیانیے کی ترویج میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ طرزِ عمل قومی مفاد کے سراسر منافی ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی یقیناً ایک بنیادی حق ہے، لیکن اسے ریاستی سالمیت اور قربانیوں کی توہین کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے ماضی میں کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ اب کیا کرنا ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ ایک حقیقت پسند، باوقار اور قومی مفاد پر مبنی پالیسی اپنائی جائے۔
وہ افغان باشندے جو غیر قانونی دستاویزات رکھتے ہیں یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ اگر اس میں ریاستی اداروں کی کوئی غفلت یا ملی بھگت ہو، تو اس کا بھی سخت احتساب ہونا چاہیے۔ افغان حکومت سے تعلقات صرف باہمی عزت اور مساوات کی بنیاد پر قائم کیے جائیں، اور جو عناصر پاکستان کے لیے خطرہ ہیں، ان سے سختی سے نمٹا جائے۔
البتہ وہ افغان مہاجرین جو انتہاپسندی یا جرم سے دور ہیں، خصوصاً خواتین، بچے، بزرگ، اور وہ لوگ جو یہاں کئی برسوں سے کاروبار یا جائیداد سے وابستہ ہیں۔ ان کے لیے واپسی کا عمل مرحلہ وار، باوقار اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ انہیں وقت اور سہولت دی جائے تاکہ وہ اپنے اثاثے سمیٹ سکیں اور باعزت انداز میں واپس جا سکیں۔
لیکن جو افراد ریاست مخالف سرگرمیوں، دہشت گردی، یا سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی میں ملوث ہیں، ان کے خلاف فوری، مؤثر اور قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ اور ان پاکستانیوں سے بھی جواب طلبی ہونی چاہیے جو وطن سے زیادہ دشمن کا بیانیہ اپنائے ہوئے ہیں۔
پاکستان نے چار دہائیوں تک جس فراخ دلی، صبر، اور انسانیت کا مظاہرہ کیا، وہ دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی کی قربانیوں کے بجائے مستقبل کی حفاظت کو ترجیح دیں۔ قومی خودداری، سلامتی، اور مفاد کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے درکار ہیں۔ اگر بدلے میں گالیاں، زہر اور خنجر ہی ملیں، تو تاریخ خاموش نہیں رہے گی اور نہ ہی زمین معاف کرے گی۔

