پاکستان کی 77 سالہ سیاسی تاریخ اگر ایک جملے میں سمیٹی جائے تو وہ یہ ہے کہ عوامی رائے کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ اقتدار کا کھیل ہمیشہ پسِ پردہ قوتوں کے ہاتھوں کھیلا گیا اور قومی و علاقائی جماعتیں، رہنما، جج، بیوروکریٹس اور صحافیوں سمیت ہر ادارہ اور ہر شخص اس کھیل کا حصہ بنتا رہا، کبھی براہِ راست اور کبھی بالواسطہ۔ کبھی سہارا دیا گیا، کبھی کچلا گیا، کبھی توڑا گیا اور کبھی ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا گیا۔
ابتدا ہی سے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت یہ طے کر لیا گیا کہ کوئی قومی جماعت، خصوصاً کسی نظریے کی بنیاد پر منظم اور مضبوط نہ ہوسکے۔ مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا: کوئی بھی جماعت اتنی طاقتور نہ ہو جو عوامی مینڈیٹ کے زور پر اقتدار میں آئے اور نہ صوبائی سطح پر کوئی ایسی تحریک کھڑی ہو جو آئینی حقوق کے لیے مؤثر مزاحمت کر سکے۔ ریاست نے ان جماعتوں کو کمزور کرنے کے لیے مختلف حربے اپنائے: سیاسی انجینئرنگ، انتخابی دھاندلی، نئی جماعتوں اور گروپوں کی تخلیق، اور اندرونی دھڑوں کو ہوا دینا۔ کبھی مارشل لا لگایا گیا تو عدالتوں نے اسے جائز قرار دیا، میڈیا نے نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا اور سیاستدان بھی خوشی خوشی فوجی حکومتوں کا حصہ بن گئے۔ کبھی اپنی من پسند پارٹیوں اور افراد کو اقتدار میں لانے کے لیے عام انتخابات میں کھلی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ کبھی غیر جماعتی انتخابات کا تجربہ کیا گیا، کبھی “کنگز پارٹی” کی تخلیق ہوئی اور کبھی نام نہاد الیکٹیبلز یا آزاد امیدواروں کو جتوا کر مخصوص صف بندی کروائی گئی۔ یہ سب اسی حکمتِ عملی کا حصہ رہا۔ یوں قومی سیاست نظریے اور منشور سے خالی ہو کر محض اقتدار کی کرسی کے گرد گھومتی رہی۔ جنہیں وقتی سہارا ملا وہ خوش فہمی میں مبتلا رہے، لیکن جب انہی پر دباؤ آیا تو وہ بھی چیخ اٹھے۔ افسوس کہ کسی نے سبق نہ سیکھا۔ سب جماعتیں باری باری اس کھیل کا حصہ بنتی رہیں اور جب چند کو حقیقت کا ادراک ہوا تو وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ آج بھی جن کے سروں پر شفقت کا ہاتھ ہے وہ خوش فہمی میں زندہ ہیں۔
علاقائی جماعتیں بھی اسی کھیل کا شکار ہوئیں۔ کبھی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر شریکِ اقتدار بنایا گیا، کبھی انہیں وطن دشمنی کے طعنے دیے گئے، کبھی ان کے اندرونی اختلافات کو ہوا دی گئی اور کبھی متبادل گروہ کھڑے کر کے ان کے اثر کو محدود کیا گیا۔ جو جماعتیں کبھی صوبوں کی نمائندہ اور طاقتور آواز سمجھی جاتی تھیں، آج چند حلقوں تک سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ ان قوم پرست تحریکوں کو بار بار توڑا اور بکھیر دیا گیا تاکہ وہ کسی بڑے انتخابی چیلنج کی اہل نہ رہ سکیں۔ یہ جماعتیں نہ صرف ریاستی کھیل کا شکار ہوئیں بلکہ اپنی اندرونی کمزوریوں کے باعث بھی زوال پذیر ہوئیں۔ داخلی جمہوریت کا فقدان، قیادت کے تنازعات اور مفاد پرستی نے انہیں مزید کمزور کر دیا۔ یہ نقصان صرف ان جماعتوں تک محدود نہ رہا بلکہ اس نے ملکی اور علاقائی سیاست میں قیادت کا ایک ایسا خلا پیدا کیا جس نے خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بدانتظامی، انتشار، انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جنم دیا ہے۔
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب سیاست کو انجینئرنگ کے ذریعے قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو انجام ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس کھیل نے آمریتوں کو جنم دیا، لاطینی امریکہ میں فوجی مداخلتوں نے جمہوریت کو بار بار زوال کی طرف دھکیلا۔ پاکستان میں بھی نتیجہ مختلف نہیں: کمزور جمہوریت، بکھری ہوئی سیاست اور مایوس عوام۔ یہ نظام عوام سے ووٹ لیتا ہے لیکن اقتدار کہیں اور دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج نہ ملک میں کوئی مؤثر قومی جماعت ہے اور نہ کوئی طاقتور صوبائی آواز۔ خلا کو پر کرنے کے لیے وقتی اور مصنوعی قیادت کھڑی کی گئی، لیکن اس نے عوام کو مزید بدظن کر دیا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرے تمام ادارے بھی اپنا کردار ادا کریں، لیکن چونکہ اس کھیل میں سب سے بڑا حصہ خود سیاستدانوں کا رہا ہے، اس لیے آج کے حالات کے وہ برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کرنا انہی کا کام ہے، اگر وہ واقعی ایسا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے قومی اور علاقائی دونوں سطح کی جماعتوں کو اپنے رویے بدلنے ہوں گے اور جدید سیاسی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ انہیں پرانے طرزِ سیاست کی قید سے آزاد ہوکر عالمی سفارتکاری، ڈیجیٹل مہمات اور جدید انتخابی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، خاندانی سیاست، شخصیت پرستی اور چور دروازوں سے حاصل ہونے والے اقتدار کو ترک کر کے نظریے کی بنیاد پر کھڑا ہونا ہوگا۔ معیشت، تعلیم، فلاحِ عامہ اور انصاف جیسے عوامی ایجنڈوں کو اپنی سیاست کا محور بنانا ہوگا۔ اگر یہ جماعتیں مزدوروں، طلبہ اور انسانی حقوق کے گروہوں کے ساتھ مسائل کی بنیاد پر وسیع تر اتحاد قائم کریں تو پھر کسی کے لیے بھی انہیں دبانا آسان نہیں ہوگا۔ بصورتِ دیگر وہ سیاست کے منظرنامے میں ہمیشہ کے لیے غیر متعلقہ قوتیں بن کر رہ جائیں گی۔
ریاست کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی اور علاقائی جماعتوں کو توڑ کر جعلی قیادت کھڑی کرنے اور حقیقی نمائندہ آوازوں کو دبانے سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ریاست کو ایسے راستے پر لے جاتا ہے جہاں سنبھالنے والا کوئی نہیں رہتا۔ اگر ملک کو آگے بڑھانا ہے تو اصل نمائندوں کو راستہ دینا ہوگا، اصل قیادت کو اور اصل عوامی آواز کو۔ اور یہ بھی ماننا ہوگا کہ جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

