اسلام آباد(اقوام متحدہ/رائٹرز )— اقوام متحدہ نے پاکستان میں جاری تباہ کن سیلابی صورتحال کے پیش نظر فوری امدادی سرگرمیوں کیلئے50 لاکھ ڈالر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم اقوام متحدہ کے مرکزی ایمرجنسی ریسپانس فنڈ (CERF) سے فراہم کی جائے گی تاکہ حکومتِ پاکستان کی قیادت میں جاری ریلیف آپریشنز کو سہارا دیا جا سکے۔
امدادی رقوم سے اقوام متحدہ کی ایجنسیاں اور شراکت دار تقریباً 40 لاکھ متاثرہ افراد کو زندگی بچانے والی امداد فراہم کریں گے، جن میں 20 لاکھ سے زائد وہ افراد شامل ہیں جو اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے بتایا کہ اس فنڈ سے متاثرہ خاندانوں کو خوراک، صاف پانی، پناہ گاہ، حفظانِ صحت کے کٹس اور مچھر دانیاں فراہم کی جائیں گی، ساتھ ہی صحت کی سہولتیں، نفسیاتی معاونت اور ہنگامی نقد امداد بھی دی جائے گی۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا”پاکستانی حکومت نے لوگوں کو نکالنے اور بے شمار زندگیاں بچانے کیلئے شاندار کام کیا ہے، لیکن کمیونٹیز اب بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ فنڈز حکومت کی کوششوں میں معاونت فراہم کرینگے تاکہ مقامی این جی اوز کے تعاون سے متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔”
یہ 50 لاکھ ڈالر اس سے قبل اوCHA (آفس فار دی کوآرڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز) کی جانب سے فراہم کیے گئے 6 لاکھ ڈالر کے علاوہ ہیں۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید شدید بارشوں کا امکان ہے، جس کے سبب بڑے پیمانے پر سیلابی خطرات لاحق ہیں۔ صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے جہاں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھنے سے مزید 16 لاکھ افراد کو خطرہ ہے اور ’سپر فلڈ‘ کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
ملک کے کئی علاقوں میں 10 فٹ تک پانی جمع ہے، بستیاں ڈوب گئی ہیں، دریا کھیتوں، سڑکوں، گھروں اور صحت مراکز کو بہا لے گئے ہیں۔ اب تک کم از کم 892 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو شدید ماحولیاتی خطرات سے دوچار ہیں۔ گلیشیئرز کے تیز پگھلنے، جھیلوں کے پھٹنے اور غیر متوقع مون سون بارشوں نے حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ 2022 میں بھی پاکستان بدترین سیلاب سے متاثر ہوا تھا جس سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔
سی ای آر ایف اپنی ریپڈ ریسپانس ونڈو کے تحت دنیا بھر میں ہنگامی امداد فوری فراہم کرتا ہے، جبکہ اس کا انڈر فنڈڈ ایمرجنسیز ونڈو طویل المدتی آپریشنز کو سہارا دیتا ہے تاکہ فنڈز کی کمی کی صورت میں بھی امدادی خلا کو پُر کیا جا سکے۔

