اقوام متحدہ:پاکستان کا اقوام متحدہ میں جامع سماجی ترقی کے حصول پر زور

اقوام متحدہ(نمائندہ خصوصی) پاکستان نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی جامع سماجی ترقی کی کوششیں مالی اور ساختی وسائل کی کمی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں، جو 2030 ایجنڈے کے حصول میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے کمیشن برائے سماجی ترقی کے 63ویں اجلاس میں عام بحث کے دوران بیان دیتے ہوئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق، کوپن ہیگن اعلامیہ میں دیے گئے بنیادی وعدے تین دہائیوں بعد بھی مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں انتہائی غربت کا شکار افراد کی تعداد 692 ملین ہے جبکہ تقریباً 65 فیصد عالمی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں آمدنی کی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، 57 فیصد افراد عوامی پالیسیوں پر کم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، جو سماجی انضمام اور شمولیت کے مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ہم اس بات سے واقف ہیں کہ سماجی ہم آہنگی خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئےکس قدر ناگزیر ہے، اور اسی کے پیش نظر پاکستان نے غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی شمولیت کو ترجیح دی ہے، خاص طور پر سماجی تحفظ پر زور دیا ہے۔

“سماجی شمولیت اور ترقی کو فروغ دینے کیلئے، ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، وزیر اعظم یوتھ پروگرام، مائیکرو فنانسنگ اسکیمیں، یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام، اور عوامی خدمات کی فراہمی کیلئےای گورننس جیسے منصوبے متعارف کرائے ہیں،” انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا۔

سفیر عاصم نے دوحہ میں منعقد ہونے والے دوسرے عالمی سربراہی اجلاس برائے سماجی ترقی کو ایک اہم موقع قرار دیا جو محض خواہشات سے آگے بڑھ کر ایک زیادہ منصفانہ اور سماجی طور پر جامع مستقبل کیلئےمؤثر حل نافذ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے نظاموں کو ترقی کیلئےناگزیر تسلیم کرتے ہوئے، اجلاس کو ترقی پذیر دنیا کے اس 48 فیصد حصے کیلئےمناسب مالی معاونت کی وکالت کرنی چاہیے جو اب تک سماجی تحفظ سے محروم ہے۔

سفیر عاصم نے مزید کہا کہ اجلاس کو ایسی لیبر پالیسیوں کو فروغ دینا چاہیے جو کم از کم معیارات کی ضمانت دیں، غیر رسمی کارکنوں کا تحفظ کریں، اور مساوی کام کیلئےمساوی اجرت کو یقینی بنائیں، اور یہ کہ نوجوانوں اور خواتین کیلئے پیشہ ورانہ تربیت، مہارتوں کی ترقی، اور ڈیجیٹل خواندگی میں سرمایہ کاری اس کثیر الجہتی تقریب کا مرکز ہونی چاہیے۔

پاکستان کے متبادل مستقل مندوب نے شفاف اور جوابدہ طرز حکمرانی کی ضرورت پر زور دیا، جو بدعنوانی کے خاتمے، جوابدہی کے طریقہ کار کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری، اور ٹیکس پالیسیوں میں اصلاحات کیلئے مددگار ثابت ہوگی۔

انہوں نے مزید امید ظاہر کی کہ اجلاس جامع اور مساوی بین الاقوامی مالیاتی نظام کی ضرورت پر زور دے گا۔ کلیدی اقدامات میں ترقی پذیر ممالک کیلئے جامع قرض معافی، سماجی منصوبوں خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آرز) کی منتقلی، اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری شامل ہوگی۔آخر میں، انہوں نے کہا کہ اجلاس کو سماجی شمولیت اور پائیدار ترقی کے انضمام کیلئے کثیرالجہتی تعاون کو مستحکم کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں