جب عالمی قوانین طاقتور ریاستوں کے مفادات کے تابع نظر آنے لگیں تو عالمی انصاف کے نظام پر اعتماد متزلزل ہونا فطری امر بن جاتا ہے۔سلامتی کونسل میں حالیہ واقعات نے ایک بار پھر اسی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔
گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والی کارروائی نے عالمی نظامِ انصاف کی پیچیدہ حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔ روس کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی قرارداد منظور نہ ہو سکی کیونکہ امریکہ نے اسے ویٹو کر دیا۔ دوسری جانب اسی اجلاس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور خطے میں کیے گئے حملوں کی مذمت سے متعلق ایک الگ قرارداد منظور کر لی گئی۔ ان ممالک پر حملوں کے بارے میں ایران کا موقف ہے کہ اس نے ان ملکوں کو نہیں بلکہ صرف انہی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جو امریکہ کے ایران پر حملوں کے لیے زیرِ استعمال تھے۔
اس متضاد صورتِ حال نے ایک بار پھر وہ بنیادی سوال زندہ کر دیا ہے جو دہائیوں سے عالمی سیاست کے افق پر گردش کر رہا ہے: کیا اقوامِ متحدہ واقعی عالمی امن اور انصاف کا محافظ ادارہ ہے یا یہ محض طاقتور ریاستوں کے مفادات کی نگہبانی کرنے والا ایک عالمی فورم بن چکا ہے؟
یہ سوال اس وقت اور بھی تلخ ہو جاتا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں پیش آنے والے سانحات کو یاد کیا جائے۔ جب معصوم شہریوں، بچوں اور طالبات کی جانیں ضائع ہوتی ہیں، جب جنگیں مسلط کی جاتی ہیں اور جب طاقتور ممالک یا ان کے اسرائیل جیسے لاڈلے اتحادی اپنی عسکری قوت اور ہٹ دھرمی کے بل پر عالمی قوانین کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں تو عالمی ضمیر کی نمائندگی کرنے والے ادارے کی خاموشی ایک گہرے سوال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ بہت سے مبصرین کے نزدیک یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اقوامِ متحدہ کی اخلاقی حیثیت انتہائی کمزور پڑ جاتی ہے۔
اسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ عالمی ردِعمل کی نوعیت طاقت کے توازن سے کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔ اگر وہی اقدامات جو کسی کمزور ملک کے خلاف کیے جاتے ہیں، کسی بڑی طاقت کے خلاف کیے جائیں تو عالمی ردِعمل کی نوعیت کیا ہوگی؟ اگر کوئی ملک امریکہ یا کسی دوسری بڑی طاقت کے اعلیٰ حکومتی یا فوجی عہدیداروں کو اسی طرح نشانہ بنائے جیسے حالیہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا، تو کیا دنیا اور اقوامِ متحدہ کا ردِعمل بھی وہی ہوگا؟ اسی طرح اگر کوئی ملک ان طاقتور ریاستوں کے شہروں اور رہائشی علاقوں پر بلا امتیاز وحشیانہ بمباری کرے، اسکولوں کے بچوں سمیت ہزاروں افراد کو قتل اور زخمی کرے اور لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دے تو کیا عالمی ادارے اسی طرح خاموش رہیں گے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو عالمی نظام میں موجود دوہرے معیار کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی ساکھ اور افادیت پر سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ اگر عالمی قانون کا اطلاق طاقت کے توازن کے مطابق ہونے لگے تو پھر وہ قانون نہیں بلکہ طاقت کی سیاست بن جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کا قیام 1945 میں دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد اس امید کے ساتھ عمل میں آیا تھا کہ دنیا کو ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا جو آئندہ جنگوں کو روک سکے، تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرے اور عالمی امن کو یقینی بنائے۔ لاکھوں انسانوں کی جانیں لینے والی اس جنگ کے بعد انسانیت نے یہ عہد کیا تھا کہ اب طاقت کے بجائے قانون اور انصاف کی حکمرانی ہوگی۔ مگر تاریخ کے صفحات اس امید کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی بیان کرتے ہیں: عالمی سیاست میں طاقت کا عنصر کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط اور بے لگام ہوتا گیا۔
اس نظام کی سب سے نمایاں علامت سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کو حاصل ویٹو کا اختیار ہے۔ امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی قرارداد کو روک سکتے ہیں، چاہے اس کے حق میں دنیا کے بیشتر ممالک ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں عالمی انصاف اکثر سیاسی مفادات کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ جب ایک طاقتور ملک کسی فیصلے کو روک دیتا ہے تو عالمی اکثریت کی آواز محض رسمی احتجاج بن کر رہ جاتی ہے۔
تاریخ میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کا تنازعہ اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ فلسطین کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ نے متعدد قراردادیں منظور کیں، مگر دہائیوں گزرنے کے باوجود ان قراردادوں پر مؤثر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ عالمی ادارے کی قراردادیں موجود رہیں مگر زمینی حقیقت تبدیل نہ ہو سکی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ کہنا درست ہے کہ اگر عالمی ادارہ اپنی ہی قراردادوں کو نافذ نہ کر سکے تو اس کی عملی حیثیت انتہائی کمزور ہو جاتی ہے۔
اسی طرح 1995 میں بوسنیا کے شہر سربرینیتسا میں ہونے والا قتلِ عام اقوامِ متحدہ کی تاریخ کے تلخ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ وہاں اقوامِ متحدہ کے امن دستے موجود تھے، مگر اس کے باوجود ہزاروں افراد کو قتل ہونے سے نہ بچایا جا سکا۔ یہ واقعہ آج بھی عالمی نظام کی کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
2003 میں عراق کی جنگ نے بھی عالمی سیاست کا ایک اور پہلو واضح کر دیا۔ جب عالمی طاقتوں نے بلا جواز فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو اقوامِ متحدہ اس فیصلے کو روکنے میں ناکام رہی۔ اس واقعے نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ عالمی نظام میں طاقت کا عنصر اب بھی فیصلہ کن ہے اور بین الاقوامی ادارے اکثر اس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں غزہ کی پٹی میں ہونے والی خونریزی نے بھی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب ہزاروں عام معصوم شہری امریکی شہہ پر اسرائیلی بربریت کا نشانہ بن جاتے ہیں، لاکھوں افراد کا گھر بار چھن جاتا ہے اور عالمی ادارے صرف بیانات اور تشویش کے اظہار تک محدود رہتے ہیں تو دنیا بھر میں یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے کہ عالمی انصاف کی حقیقی قوت کہاں ہے۔ اگر طاقتور ممالک کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن نہ ہو تو پھر عالمی قانون کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟
اقوامِ متحدہ کے بارے میں اب اس موقف کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ ادارہ کمزور ممالک کے لیے اکثر محض زبانی اور روایتی اخلاقی حمایت تک محدود رہ گیا ہے، جبکہ طاقتور ممالک کے معاملات میں اس کی زبان اور رویہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین اسے ایک ایسا عالمی فورم سمجھتے ہیں جہاں طاقتور ریاستیں اپنے سیاسی اور سفارتی مفادات کے مطابق عالمی بیانیہ تشکیل دیتی ہیں۔
اس بحث کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں نے انسانی امداد، پناہ گزینوں کی مدد، عالمی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں کے دوران لاکھوں لوگوں تک امداد پہنچانے میں اس ادارے نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اگرچہ یہ سب قابلِ تعریف ہے، مگر اس کے باوجود بین الاقوامی تنازعات کے حل میں اس کی محدود مؤثریت ایک مستقل سوال بنی ہوئی ہے۔
آج کی دنیا ایک بار پھر اس حقیقت کے سامنے کھڑی ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت اور اصولوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ جب طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کو عالمی اصولوں پر ترجیح دیتی ہیں تو عالمی نظامِ انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا اصول ہی غالب ہے۔
اگر عالمی ادارے واقعی مؤثر اور غیر جانبدار بننا چاہتے ہیں تو انہیں صرف قراردادوں اور بیانات سے آگے بڑھ کر عملی قوت حاصل کرنا ہوگی۔ جب تک عالمی طاقتیں خود کو بین الاقوامی قانون کے تابع کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں، تب تک کسی بھی عالمی ادارے کے لیے مکمل انصاف فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
سلامتی کونسل میں ہونے والا حالیہ واقعہ اسی حقیقت کی ایک اور یاد دہانی ہے۔ دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا عالمی نظام طاقت کے اصول پر چلتا رہے گا یا واقعی ایسا نظام قائم کیا جائے گا جہاں قانون اور انصاف کی حکمرانی ہو۔ کیونکہ جب عالمی انصاف کا پیمانہ طاقت کے ترازو میں تولا جانے لگے تو قراردادیں محض کاغذ کے ٹکڑے رہ جاتی ہیں اور اقوامِ متحدہ انصاف کا ضامن نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی بے بسی کی علامت بن کر رہ جاتی ہے۔

