اسلام آباد(ایجنسیاں)اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک تازہ رپورٹ میں طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا گیا ہے کہ افغان سرزمین سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔ رپورٹ میں طالبان کے اس مؤقف کو ’’ناقابلِ اعتبار‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ ہمسایہ ممالک تیزی سے افغانستان کو علاقائی عدم استحکام کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔
یہ جائزہ سلامتی کونسل کو پیش کی گئی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16ویں رپورٹ میں شامل ہے، جو اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر بڑھتی عالمی تشویش کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی فیکٹو حکام مسلسل کسی بھی دہشت گرد گروہ کی افغانستان میں موجودگی یا وہاں سے کارروائیوں کی تردید کرتے ہیں، تاہم یہ دعویٰ قابلِ اعتماد نہیں۔
رپورٹ کے مطابق رکن ممالک کی بڑی تعداد مسلسل یہ اطلاع دے رہی ہے کہ داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، ترکستان اسلامک پارٹی، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں اور بعض نے افغان سرزمین کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق القاعدہ طالبان کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے اور متعدد افغان صوبوں میں اس کی مستقل موجودگی ہے، جبکہ داعش خراسان طالبان کا اہم حریف ہونے کے باوجود افغانستان کے اندر اور باہر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقائی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ٹی ٹی پی ہے، جو محفوظ افغان ٹھکانوں سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہی ہے اور طالبان کے اندر بعض عناصر کی حمایت سے مستفید ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بعض اندازوں کے مطابق رواں سال اب تک 600 سے زائد حملے ہو چکے ہیں، جن میں پیچیدہ نوعیت کے خودکش حملے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خودکش حملہ آوروں کی بڑی تعداد افغان شہریوں پر مشتمل بتائی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں، سرحد پار جھڑپیں ہوئیں، جانی نقصان ہوا اور سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے افغان معیشت کو یومیہ لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے بعض اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز اعظم سمیت کئی اہم شخصیات کی گرفتاری شامل ہے، جس سے اس گروہ کی سرگرمیوں کو دھچکا پہنچا ہے۔

