البرٹا اسمبلی کا چوتھی بار نوٹسٹنگ کلاز کا استعمال، ٹرانس جینڈر قوانین کی منظوری

ایڈمنٹن (کینیڈین پریس+نامہ نگار)البرٹا کی حکمران یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (یو سی پی) نے بدھ کی علی الصبح ایک بل منظور کر لیا، جس سے صوبے میں چوتھی مرتبہ آئین کے نوٹسٹنگ کلاز کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بل ٹرانس جینڈر شہریوں سے متعلق قوانین کے نفاذ کیلئے تیار کیا گیا ہے۔

وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کی جماعت نے اکثریت کے زور پر تیسرے اور حتمی مرحلے میں بل منظور کیا، جبکہ اپوزیشن این ڈی پی نے اس کی سخت مخالفت کی۔ ووٹنگ صبح 2 بج کر 20 منٹ پر ہوئی جس کے دوران یو سی پی ارکان نے ڈیسک بجا کر خوشی کا اظہار کیا جبکہ این ڈی پی ارکان نے مایوسی کا اظہار کیا۔ ڈینیئل اسمتھ حتمی ووٹنگ کے وقت ایوان میں موجود نہیں تھیں۔

حکومت نے بحث کا دورانیہ محدود کر کے بل کو تیزی سے آگے بڑھایا۔ بل کے تحت تین قوانین کو قانونی تحفظ دینے کے لئے نوٹسٹنگ کلاز استعمال کی جائے گی جو ٹرانس جینڈر افراد سے متعلق ہیں۔

ان قوانین کے مطابق اسکولوں میں نام اور ضمیروں کے استعمال کی نگرانی، ٹرانس جینڈر لڑکیوں پر خواتین کی امیچر اسپورٹس میں شرکت کی پابندی اور 16 سال سے کم عمر افراد کیلئے جینڈر افارمنگ طبی سہولتوں کی پابندی شامل ہے۔ اس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے ہارمون تھراپی اور پیوبرٹی بلاکرز کے نسخے بھی ممنوع ہوں گے۔

اپوزیشن رکن کیتھلین گینلے نے بل پر بحث کرتے ہوئے اسے قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کیلئے توہین آمیز قرار دیا اور کہا کہ نوٹسٹنگ کلاز کا ایسا مسلسل استعمال تاریخ میں کبھی تصور میں بھی نہیں تھا۔

دوسری جانب وزیر ماحولیات ربیکا شلز نے کہا کہ یہ اقدامات والدین اور بچوں کو اہم اور زندگی بدل دینے والے فیصلوں میں رہنمائی فراہم کرنے کیلئے ضروری ہیں اور یہ بچوں کی حفاظت کیلئے کئے جا رہے ہیں۔

کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے، جبکہ البرٹا میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پیوبرٹی بلاکرز مستقل جسمانی تبدیلیوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

ٹرانس جینڈر بچوں کے کچھ والدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے بچوں کی زندگی اور ذہنی صحت پر اس قانون کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور انہیں صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ نوٹسٹنگ کلاز کے ذریعے حکومت آئین کے کچھ حصوں کو پانچ سال کیلئے معطل کر سکتی ہے۔ یو سی پی کی حکومت رواں سیشن میں اس شق کا چار مرتبہ استعمال کر چکی ہے، اکتوبر میں اسی شق کے تحت اساتذہ کی ہڑتال ختم کرانے کیلئے قانون سازی بھی کی گئی تھی۔