ایڈمنٹن (نامہ نگار) البرٹا میں اساتذہ کی ہڑتال کو ایک ہفتہ مکمل ہونے کے بعد منگل کے روز اساتذہ کی تنظیم اور صوبائی حکومت کے مذاکراتی وفد کے درمیان پہلی ملاقات ہوئی، تاہم تاحال بات چیت کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
یہ ہڑتال 6 اکتوبر سے جاری ہے جس کے باعث صوبے بھر کے 2500اسکولوں کے تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار طلبہ تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ نیٹ ہارنر نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ حکومت کو البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن (ATA) کی جانب سے نیا مذاکراتی مجوزہ معاہدہ موصول ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ مجوزہ معاہدہ “پیچیدہ” ہے اور اس کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئےحکومت کی مذاکراتی ٹیم نے طویل ہفتہ وار تعطیلات کے بعد ملاقات کا فیصلہ کیا۔
تاہم فریقین نے اس مجوزہ معاہدے کی شرائط ظاہر نہیں کیں۔ یونین کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ حکومت اساتذہ کی بھرتیوں میں وعدے سے زیادہ اضافہ کرے تاکہ اسکولوں میں بڑھتے ہوئے ہجوم پر قابو پایا جا سکے۔
گزشتہ ماہ اساتذہ کی جانب سے مسترد کردہ آخری سرکاری پیشکش میں چار سال کے دوران 12 فیصد تنخواہوں میں اضافہ اور 3,000 نئے اساتذہ کی بھرتی کا وعدہ شامل تھا، تاہم یونین نے اسے ناکافی قرار دیا تھا۔
صوبائی حزبِ اختلاف کی جماعت نیو ڈیموکریٹک پارٹی (NDP) کی تعلیمی امور کی ناقد امانڈا چیپ مین نے کہا ہے کہ متحدہ کنزرویٹو پارٹی (UCP) کی حکومت کو تعلیمی شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور ایسا معاہدہ پیش کرنا چاہیے جو ہڑتال کے خاتمے کا باعث بنے۔
انہوں نے کہا”اساتذہ کو چھوٹے کلاس رومز اور بہتر وسائل کی ضرورت ہے، اور طلبہ کو جلد از جلد کلاسوں میں واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر تعلیم کیلئے مناسب فنڈنگ نہ ہوئی تو البرٹا کا تعلیمی نظام ملک میں سب سے پیچھے رہ جائیگا۔”
ادھر حکومتِ البرٹا نے منگل کے روز والدین کیلئے ایک آن لائن پورٹل کھول دیا ہے، جہاں وہ ہڑتال کے دوران بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات کیلئے سبسڈی کی درخواست دے سکتے ہیں۔12 سال یا اس سے کم عمر کے ہر بچے کیلئےفی دن 30 ڈالر کی امداد دی جائیگی جو 31 اکتوبر سے واجب الادا ہونا شروع ہو گی۔
دوسری جانب، البرٹا کے مختلف شہروں بشمول کیلگری میں اساتذہ کے حق میں ریلیوں اور واکس کا سلسلہ جاری ہے تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
رائے عامہ کے ادارے انگس ریڈ انسٹیٹیوٹ کے ایک تازہ آن لائن سروے کے مطابق 60 فیصد البرٹنز ہڑتالی اساتذہ کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں جبکہ 21 فیصد حکومت کے مؤقف کے حامی ہیں۔وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کی جماعت UCP کے سابق ووٹرز میں یہ حمایت 28 فیصد تک محدود ہے۔
سروے میں گزشتہ ہفتے تین روز کے دوران 800 سے زائد افراد نے حصہ لیا۔کینیڈین ریسرچ انسائٹس کونسل کے مطابق چونکہ یہ آن لائن سروے ہے، اسلئےاس میں غلطی کی شرح (margin of error) کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

