البرٹا حکومت ڈے کیئر فنڈز کے مؤثر اور شفاف استعمال میں ناکام: آڈیٹر جنرل کی رپورٹ

ایڈمنٹن (نامہ نگار)البرٹا کے آڈیٹر جنرل ڈوگ وائلی نے ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت ڈے کیئر فنڈز کے استعمال میں شفافیت، نگرانی اور احتساب کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، البرٹا حکومت نے ایسے اقدامات نہیں کیے جن سے یہ تصدیق ہو سکے کہ ڈے کیئر آپریٹرز کو دی جانے والی وفاقی و صوبائی فنڈنگ درحقیقت والدین کی فیسوں میں کمی یا عملے کی اجرت میں اضافے پر خرچ کی جا رہی ہے۔

آڈیٹر جنرل کے دفتر نے 25 ڈے کیئرز کا تفصیلی جائزہ لیا، جن میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جیسے کہ حاضری کے ریکارڈ میں مبالغہ آمیز اعداد و شمار، ڈپلیکیٹ دعوے، اور غلط معلومات پر مبنی ادائیگیاں۔ ایک کیس میں حکومت کو محض ایک ماہ میں تقریباً 26 ہزار ڈالر زائد ادا کرنے پڑے۔

ڈوگ وائلی نے رپورٹ میں کہا”یہ عوامی فنڈز ہیں، اور ان کے استعمال میں شفافیت، احتساب اور درستگی بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔ جب تصدیق کا نظام کمزور ہو تو عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔”

اہم نکات

مالی سال 2023-24 میں البرٹا حکومت نے ڈے کیئر اور بچوں کی نگہداشت پر 1 بلین ڈالر سے زائد خرچ کیے۔
آڈٹ میں شامل 2,600 سے زائد سہولیات میں حکومتی نگرانی کا نظام غیر مؤثر قرار پایا۔
عملے کی اجرت بڑھانے کیلئے مختص خصوصی فنڈز کے درست استعمال کی بھی کوئی موثر تصدیق موجود نہیں۔

حکومتی ردعمل

تعلیم و بچوں کی دیکھ بھال کے وزیر ڈیمیٹریوس نکولائیڈز نے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا”ہم سفارشات کا خیر مقدم کرتے ہیں اور دعووں کے نظام کو مزید شفاف، درست اور مؤثر بنانے کیلئےفوری قدامات کر رہے ہیں۔”

اپوزیشن کا مؤقف

این ڈی پی کی نقاد برائے بچوں و خاندانی خدمات، ڈیانا بیٹن نے رپورٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا”یہ رپورٹ والدین کے ساتھ دوہرا ظلم ہے۔ فنڈز کا غلط انتظام اور حکومتی بے حسی بچوں کی فلاح و بہبود پر سمجھوتہ ہے۔”

آڈیٹر جنرل نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ فنڈنگ کے استعمال پر سخت نگرانی کی جائے اور تصدیقی نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں