البرٹا میں اساتذہ اور حکومت کے مذاکرات تعطل کا شکار، ہڑتال کا خدشہ بڑھ گیا

البرٹا(نامہ نگار) — البرٹا کی حکومت اور اساتذہ کے درمیان جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں جس کے باعث صوبے میں ہڑتال کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ حکومت اساتذہ پر زور دے رہی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں، تاہم اساتذہ کی یونین کا مؤقف ہے کہ صوبے کو اس پیشکش سے آگے بڑھنا ہوگا جسے وہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

صوبائی وزیرِ خزانہ نیٹ ہورنر نے کہا کہ اساتذہ کو تازہ ترین پیشکش پر دوبارہ غور کرنا چاہیے کیونکہ یہ ان کے احترام کا مظہر ہے۔ ان کے بقول، “ہم کبھی مذاکرات کی میز سے نہیں اٹھے۔”

یونین کے صدر جیسن شیلنگ نے کہا کہ وہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت کو اساتذہ کی اصل تشویش، خصوصاً کلاس روم کی صورتحال اور تنخواہوں کے مسائل، کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا”جب ہم مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو اسٹیئرنگ وہیل پر دونوں ہاتھ ہوتے ہیں … اور جب آپ تعطل کا شکار ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ دونوں فریق آگے بڑھنے پر آمادہ نہیں ہیں۔”

حکومتی پیشکش میں چار سالوں میں 12 فیصد تنخواہوں میں اضافہ اور تین سالوں میں 3000نئے اساتذہ کی بھرتی شامل ہے۔ ہورنر کے مطابق یہ پیکیج تنخواہوں کے ساتھ ساتھ کلاس روم کی پیچیدگی کے مسائل کو بھی حل کرتا ہے، اس کے باوجود فریقین کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

دوسری جانب اساتذہ کی ہڑتال کے اختیار (Strike Mandate) کا وقت قریب آ رہا ہے۔ اگر اتفاق نہ ہوا تو اساتذہ زیادہ سے زیادہ 7 اکتوبر تک ہڑتال کر سکتے ہیں، تاہم اس کیلئے72 گھنٹے پہلے نوٹس دینا لازمی ہوگا۔ دوسری طرف ٹیچرز ایمپلائر بارگیننگ ایسوسی ایشن کو بھی لاک آؤٹ کا اختیار دیا جا چکا ہے۔

یونین کا کہنا ہے کہ قومی اعدادوشمار کے مطابق البرٹا میں فی طالب علم فنڈنگ ملک میں سب سے کم ہے۔ جیسن شیلنگ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں اساتذہ کی تنخواہوں میں صرف 5.75فیصد اضافہ ہوا ہے، جو مہنگائی کے مطابق ناکافی ہے اور اس سے نہ نئے اساتذہ متوجہ ہوتے ہیں اور نہ ہی پرانے برقرار رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالیں اور پوچھیں کہ کیوں صوبے میں پبلک ایجوکیشن کو بحران میں ڈالنا حکومت کیلئے قابلِ قبول ہے۔

دوسری طرف ہورنر نے کہا کہ صوبے کو نئے مالی دباؤ کا سامنا ہے اور خسارہ 6.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق، “اپریل میں جب پہلی ڈیل ہوئی تھی اس وقت سے اب تک سب سے بڑی تبدیلی صوبے کی بگڑتی ہوئی مالی صورتحال ہے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں