امریکا: امیگریشن پالیسیوں کے خلاف ملک گیر ہڑتال، شہری سراپا احتجاج

واشنگٹن (اے پی) امریکا بھر میں امیگریشن حکام کی سخت کارروائیوں کے خلاف ملک گیر ہڑتال جاری ہے۔ مظاہرین نے ’نہ کام، نہ اسکول، نہ خریداری‘ کی اپیل کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف سخت احتجاج کیا۔

ہڑتال کی کال امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹس کے ہاتھوں 2 امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد دی گئی تھی، جس کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف شہروں جیسے واشنگٹن ڈی سی، ایریزونا، کولوراڈو، مشی گن، اٹلانٹا اور پورٹ لینڈ میں مظاہرے اور طلبہ کے واک آؤٹ دیکھے گئے جبکہ بعض ریاستوں میں اسکول بند رہے۔

امریکی محکمۂ انصاف نے 37 سالہ الیکس پریٹی کی ہلاکت پر شہری حقوق کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم 37 سالہ رینی نکول گُڈ کی ہلاکت پر تاحال کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔ ابتدائی طور پر حکومتی عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ پریٹی نے اسلحہ لہرایا تھا جبکہ نکول گُڈ کو ابتدائی طور پر ’دہشت گرد‘ قرار دیا گیا، بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیجز سے ظاہر ہوا کہ وہ موقع سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

امریکی کانگریس رکن الہان عمر سمیت کئی منتخب نمائندوں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ ماہرین کے مطابق عوامی دباؤ حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔