منیاپولس(مقامی میڈیا، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی، امریکی حکام)امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں ایک امیگریشن افسر کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون ہلاک ہو گئی، جس کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا۔ واقعے پر مقامی رہنماؤں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ انتظامیہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا گیا ہے کہ مقتولہ ایک ’داخلی دہشت گرد‘ تھیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق مقتولہ کی شناخت رینی نکول گڈ کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں اس وقت قریب سے گولیاں ماری گئیں جب وہ مبینہ طور پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایجنٹوں سے بچنے کیلئے گاڑی آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں ایک نقاب پوش آئی سی ای ایجنٹ کو ہونڈا ایس یو وی پر تین گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر دیگر گاڑیوں سے ٹکرا گئی۔
فائرنگ کے بعد خاتون کی خون آلود لاش گاڑی کے اندر دیکھی گئی جبکہ جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین نے وفاقی اہلکاروں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ واقعے کے فوراً بعد ہزاروں مظاہرین منیاپولس کی سڑکوں پر نکل آئے اور ’’ICE out of MPLS‘‘ کے نعرے لگائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ خاتون نے افسران کو کچلنے کی کوشش کی تھی، تاہم منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے آئی سی ای سے شہر چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے وفاقی ردعمل کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے مکمل، منصفانہ اور فوری تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم نے واقعے کو ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقتولہ دن بھر آئی سی ای ایجنٹوں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈال رہی تھی اور اس نے اپنی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ دوسری جانب مقتولہ کی والدہ ڈونا گینگر نے مقامی اخبار کو بتایا کہ ان کی بیٹی خوفزدہ ہو گئی تھی اور وہ کسی منظم احتجاج یا تشدد کا حصہ نہیں تھی۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر دستاویزی تارکینِ وطن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور ملک بدری کی پالیسیوں کے باعث امریکہ بھر میں آئی سی ای کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جبکہ ناقدین ادارے پر حد سے زیادہ طاقت کے استعمال اور ناکافی تربیت یافتہ اہلکاروں کی تعیناتی کے الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔

