امریکا نے بحیرۂ کیریبیئن میں فوجی آپریشن شروع کر دیا

“سدرن اسپیئر” کے نام سے منشیات بردار گروہوں کیخلاف کارروائی، وینزویلا کیخلاف طاقت کے استعمال کا امکان

واشنگٹن/کیریبیئن(اے پی پی)امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر بحیرۂ کیریبیئن میں ’سدرن اسپیئر‘ کے نام سے بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا، جس کے دوران ماہرین کے مطابق وینزویلا کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے جرمن نشریاتی ادارے کے حوالے سے بتایا کہ آپریشن کے آغاز کا اعلان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا۔

پیٹ ہیگستھ نے کہا”امریکا مغربی نصف کرہ میں منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے ’سدرن اسپیئر‘ آپریشن شروع کر رہا ہے۔ ہمارے وطن کا دفاع اور منشیات سے امریکی شہریوں کی حفاظت اس آپریشن کا بنیادی مقصد ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ آپریشن کی قیادت امریکی جوائنٹ ٹاسک فورس ساوتھ کام کر رہی ہے، جو منشیات بردار گروہوں کے خاتمے، سکیورٹی تعاون اور ہنگامی منصوبہ بندی کی ذمہ دار ہے۔

“علاقے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ”
منشیات کے خلاف مہم کے تحت گزشتہ ہفتے دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ کو بھی کیریبیئن اور لاطینی امریکا کے پانیوں میں منتقل کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں خطے میں پہلے سے موجود امریکی بحریہ کی طاقت مزید بڑھ گئی ہے۔امریکی بحریہ کے متعدد جنگی جہاز بھی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

“وینزویلا کے خلاف آپشنز ٹرمپ کو پیش”
امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کے مطابق امریکی فوجی حکام نے صدر ٹرمپ کو وینزویلا کیخلاف فوجی کارروائی کے متعدد آپشن پیش کیے ہیں، تاہم کوئی حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ خطے میں فوجی موجودگی کا مقصد منشیات کے نیٹ ورکس اور بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کو روکنا ہے۔

“امریکی دعووں پر سوالات”
قبل ازیں امریکا نے کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات بردار گروہوں کے خلاف کارروائی کے نام پر 21 حملے کیے تھے جن میں 80 سے زائد افراد مارے گئے، لیکن امریکی حکام اپنے دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

“وینزویلا کا شدید ردِعمل”
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی اقدام کو بلاجواز جنگی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا”امریکا خطے میں ایک غیرضروری جنگ شروع کر رہا ہے۔اس آپریشن کا اصل مقصد مجھے اقتدار سے ہٹانا ہے۔”انہوں نے مزید کہا”امریکی بحریہ کی تعیناتی گزشتہ ایک صدی میں ہمارے براعظم کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔”