اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) امریکا نے عالمی سطح پر چین کی معدنی اجارہ داری کے توازن کیلئےپاکستان سے تعاون طلب کر لیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے بھیجے گئے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے ملاقات کی، تاکہ امریکی صنعت کیلئے محفوظ، شفاف اور پائیدار معدنی سپلائی چینز کے قیام کے امکانات پر گفتگو کی جا سکے۔
امریکی وفد کی قیادت رابرٹ لوئس اسٹریئر دوم نے کی، جو امریکی حکومت کے تعاون سے قائم کردہ کریٹیکل منرلز فورم (Critical Minerals Forum — CMF) کے صدر ہیں۔
“اہم نکاتِ ملاقات”
سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں معدنیات و کان کنی کے شعبے میں تعاون، سپلائی چین کے تحفظ کو مضبوط بنانے، اور پاکستان میں ذمہ دار اور پائیدار سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکا اور بھارت نے حال ہی میں دفاعی تعاون کے لیے 10 سالہ فریم ورک معاہدہ طے کیا ہے۔
“چین کی معدنی بالادستی پر امریکی تشویش”
رابرٹ لوئس اسٹریئر نے کہا کہ بیجنگ کی جانب سے عالمی نایاب معدنیات پر بڑھتا ہوا کنٹرول امریکی قومی سلامتی، اقتصادی مسابقت اور اسٹریٹجک مقاصد کیلئےخطرہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ “کریٹیکل منرلز فورم دنیا بھر میں خصوصاً ابھرتی ہوئی معیشتوں میں امریکی صنعت کیلئےقابلِ اعتماد سپلائی چینز کے قیام پر کام کر رہا ہے۔”
ان کے مطابق فورم کی توجہ تانبا، لیتھیم، اور اینٹیمونی جیسی دھاتوں پر مرکوز ہے تاکہ مالی اور سلامتی سے متعلق خطرات کو کم کیا جا سکے۔انہوں نے ٹیکنالوجی کی منتقلی، دانشورانہ املاک کے تحفظ اور امریکی نجی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کا عزم بھی ظاہر کیا۔
“پاکستانی موقف: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب”
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفد کو بتایا کہ پاکستان اہم قانونی و ضابطہ جاتی اصلاحات پر کام کر رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے لیے موزوں ماحول پیدا کیا جا سکے۔انہوں نے امریکی وفد کو دعوت دی کہ وہ تعاون کے لیے ایک تفصیلی فریم ورک کے ساتھ آئیں تاکہ اس کا جائزہ ذمہ دار سرمایہ کاری اور باہمی مفاد کے تناظر میں لیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں توازن قائم کر رہا ہے، جس میں امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری، چین کے ساتھ آزمودہ شراکت داری، اور سعودی عرب کے ساتھ تعاون نمایاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “پاکستان کا معدنی شعبہ معیشت کے لیے ایک انقلابی موقع فراہم کرتا ہے، جو ہمیں کھپت پر مبنی معیشت سے برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔”
“پاکستانی ٹیلنٹ پر امریکی اعتماد”
رابرٹ لوئس اسٹریئر نے تسلیم کیا کہ امریکا پاکستان کے سائنس، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں موجود انسانی سرمائے کو ایک مسابقتی برتری سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں کریٹیکل منرلز کی ترقی کا ایک علاقائی مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکی سفارت خانہ پاکستان میں تجارتی مصروفیات کی مکمل حمایت کرتا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
“چین کی سبسڈی اور امریکا کی کم سرمایہ کاری”
امریکی وفد نے اعتراف کیا کہ چین کی بالادستی کی بڑی وجہ اس کی سرکاری سبسڈیز، کمزور ماحولیاتی ضوابط اور معدنیات کی پراسیسنگ میں عمودی انضمام ہے جبکہ امریکا نے اس میدان میں خاطرخواہ سرمایہ کاری نہیں کی۔
امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے مطابق، کریٹیکل منرلز جدید معیشت، توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی کی بنیاد ہیں۔کونسل نے خبردار کیا کہ یہ سپلائی چینز انتہائی نازک ہو چکی ہیں، کیونکہ ان کا زیادہ تر انحصار چین پر ہے اور وہ موسمیاتی خطرات سے بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
“سرمایہ کاری میں رکاوٹیں”
رابرٹ لوئس اسٹریئر کے مطابق، امریکی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پیداواری لاگت میں اضافہ اور معدنی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے ’’سرد اثر‘‘ رکھتی ہے، کیونکہ سرمایہ کار ایسے منصوبوں میں دلچسپی لیتے ہیں جن میں خطرے کے مقابلے میں منافع زیادہ ہو۔

