دوحہ/واشنگٹن(رائٹرز/الجزیرہ) — اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امریکا اور قطر کے درمیان اختلافی بیانات سامنے آگئے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا نے قطر کو حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی، تاہم قطر نے اس دعوے کی تردید کردی۔
صحافیوں سے گفتگو میں کیرولائن لیویٹ نے بتایا کہ “ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی فوج نے مطلع کیا تھا کہ اسرائیل دوحہ میں موجود حماس رہنماؤں پر حملہ کرنے جا رہا ہے۔” ان کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ہدایت دی تھی کہ وہ قطر کو اس حملے کی اطلاع دیں، اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔
ترجمان نے کہا کہ “قطر کے اندر یکطرفہ بمباری کرنا، جو امریکا کا قریبی اتحادی ہے، نہ تو اسرائیل اور نہ ہی امریکا کے مفاد میں ہے، تاہم حماس کو ختم کرنا ایک قابلِ قدر مقصد ہے۔”
کیرولائن لیویٹ نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے بھی بات کی، مگر یہ نہیں بتایا کہ کیا قطر کے خلاف کسی کارروائی کی دھمکی دی گئی۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ “ایک امریکی عہدیدار کی طرف سے جو کال موصول ہوئی، وہ دوحہ میں اسرائیلی حملے کے دھماکوں کی آواز کے دوران ہی آئی تھی۔”
واضح رہے کہ منگل کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فضائی حملہ کرتے ہوئے حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ حماس کے سیاسی بیورو کے رکن سہیل الہندی کے مطابق، اس کارروائی میں خلیل الحیہ محفوظ رہے، مگر ان کے بیٹے ہمام الحیہ، دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبد، عبداللہ عبد الواحد (ابو خلیل)، معمن حسونہ (ابو عمر) اور احمد المملوک (ابو مالک) جاں بحق ہوگئے۔
حماس رہنما نے مزید بتایا کہ قطر کی اندرونی سیکیورٹی فورسز کے رکن کارپورل بدر سعد محمد الحمایدی بھی اس حملے میں شہید ہوئے۔

