واشنگٹن / لندن / یروشلم (گارڈین، ہاریٹز، ٹائمز آف اسرائیل)امریکا ایک ایسے منصوبے کی حمایت کر رہا ہے جس کے تحت سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو غزہ کی عارضی انتظامیہ کی سربراہی سونپی جائے گی۔ یہ انتظامیہ پانچ سال تک غزہ کی سیاسی اور قانونی اتھارٹی ہوگی، تاہم فلسطینی اتھارٹی کی براہِ راست شمولیت اس میں شامل نہیں ہوگی۔
برطانوی روزنامہ “دی گارڈین” نے اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس منصوبے کے مطابق ٹونی بلیئر ’غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی‘ (جیٹا) کی قیادت کریں گے، جو ابتدا میں مصر کے شہر العریش میں قائم کی جائے گی اور بعد ازاں ایک عرب کثیرالقومی فورس کے ساتھ غزہ میں داخل ہوگی۔
یہ ماڈل تیمور لیستے اور کوسوو جیسے خطوں کے عبوری انتظامی ڈھانچوں سے متاثر ہے، جہاں بین الاقوامی نگرانی میں ریاست سازی کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ منصوبے کے تحت جیٹا کو سات سے دس ارکان پر مشتمل بورڈ اور 25 رکنی سیکریٹریٹ کی مدد حاصل ہوگی۔ پانچ کمشنرز غزہ میں انسانی امور، تعمیر نو، قانون سازی، سیکیورٹی اور فلسطینی اتھارٹی سے ہم آہنگی کے معاملات دیکھیں گے۔
منصوبے میں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فلسطینیوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور ایک خصوصی ’پراپرٹی رائٹس یونٹ‘ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ نقل مکانی کرنے والوں کے واپسی اور جائیداد کے حقوق محفوظ رہیں۔
سابق برطانوی وزیراعظم کا یہ ممکنہ کردار خطے میں تنازع کو جنم دے رہا ہے۔ ٹونی بلیئر 2007 کے بعد مشرق وسطیٰ کے ایلچی رہ چکے ہیں اور کئی خلیجی رہنماؤں کے نزدیک ان کی بلند ساکھ ہے، لیکن فلسطینی اور خطے کے دیگر حلقے انہیں 2003 کے عراق جنگ میں امریکا کی حمایت کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
کچھ مغربی سفارتکاروں نے کہا ہے کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ ٹونی بلیئر ہی عبوری اتھارٹی کی قیادت کریں گے یا نہیں، اور یہ مدت پانچ کے بجائے دو سال بھی ہوسکتی ہے۔ اس منصوبے کو جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پہلے ہی ایک متبادل تجویز کی حمایت کر چکی ہے جس میں ایک ٹیکنوکریٹک انتظامیہ کو ایک سال کے لیے غزہ کا کنٹرول دینے اور پھر اصلاح شدہ فلسطینی اتھارٹی کو اقتدار منتقل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
امریکی حکام نئے منصوبے کو ڈونلڈ ٹرمپ کی ماضی کی تجویز اور اقوام متحدہ کے نیویارک ڈیکلریشن کے درمیان سمجھوتہ قرار دے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے نیویارک میں قطر کے امیر، سعودی وزیر خارجہ، اردن کے بادشاہ، انڈونیشیا اور ترکیہ کے صدر سے ملاقات کے بعد کہا کہ “ہم کسی معاہدے کے قریب ہیں”۔
عرب ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں امن فوج میں شریک ہوں گے جب فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح ٹائم لائن دی جائے۔ کئی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ بلیئر کا منصوبہ درحقیقت اسرائیل کے قبضے کو ایک نرم شکل میں آگے بڑھاتا ہے۔
اسی دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ویڈیو لنک خطاب میں کہا کہ حماس کو جنگ کے بعد غزہ کے نظم و نسق میں شامل نہیں کیا جائے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ “غزہ ریاستِ فلسطین کا لازمی حصہ ہے اور ہم اس کی مکمل ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہیں”۔
غزہ کے مستقبل کے لیے پیش کیے گئے اس نئے منصوبے نے خطے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں امریکا اور مغربی اتحادی اسے ایک حل کے طور پر پیش کر رہے ہیں، وہیں فلسطینی عوام اور عرب ممالک اس پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ٹونی بلیئر کی سربراہی میں عبوری اتھارٹی واقعی وجود میں آ سکے گی یا نہیں۔

