“امریکا کے ساتھ معاہدہ اسرائیلی حملے سے بہتر ہے”، سعودی عرب کا ایران کو اہم پیغام

تہران(نمائندہ خصوصی) سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے حالیہ دورۂ ایران کے دوران ایرانی حکام کو ایک دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جوہری معاہدے پر مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لیا جائے، کیونکہ یہ خطے کو اسرائیل کے ممکنہ حملے سے بچانے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایران میں اعلیٰ قیادت سے براہ راست رابطے کیلئے اپنے بیٹے کو تہران روانہ کیا تاکہ وہ صدر مسعود پزشکیان، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، اور دیگر اعلیٰ عہدیداران سے ملاقات کر کے سعودی تشویش سے آگاہ کر سکیں۔

ذرائع کے مطابق، 17 اپریل کو صدارتی کمپاؤنڈ میں بند کمرہ ملاقات میں سعودی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ سفارتی راستے سے معاہدہ طے کرنا چاہتی ہےاور وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ امریکی صدر طویل مذاکرات کا متحمل نہیں ہو سکتےاور معاہدہ اسرائیلی فوجی حملے سے بچنے کا بہتر راستہ ہے۔

خلیجی سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب خطے میں کسی نئے تصادم سے بچنے کیلئےسفارتی اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے تاکہ موجودہ معاشی و تزویراتی اہداف کو نقصان نہ پہنچے۔

ایرانی صدر پزشکیان نے ملاقات میں بتایا کہ ایران مغربی پابندیوں کے خاتمے اور معاشی دباؤ میں کمی کیلئے معاہدے کا خواہاں ہے لیکن وہ صرف اس بنیاد پر اپنے یورینیم افزودگی پروگرام سے دستبردار نہیں ہو گا کہ ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بھی بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطہ غزہ، لبنان، اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں