امریکہ: پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سے ملاقات

واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اعلیٰ امریکی قیادت سے ملاقاتوں کے تسلسل میں امریکی کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز سے اہم ملاقات کی، جس میں پاک امریکا تعلقات، دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی اور جنوبی ایشیا کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات کے تناظر میں سال 2025 اہم کامیابیوں کا سال رہا، جبکہ سال 2026 میں دوطرفہ تعاون کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کے نقطہ نظر میں پاکستان کی توجہ جغرافیائی سیاست سے بڑھ کر جیواکنامکس پر مرکوز ہے۔

رضوان سعید شیخ نے مئی 2025 کے واقعات کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویے کے باعث خطے کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوئے اور جارحیت کی دہلیز خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری صلاحیت کی حامل دو ریاستوں کے درمیان تصادم کا دائرہ کار روایتی جنگ سے نکل کر جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال تک جا پہنچا ہے، جبکہ 1.7 ارب آبادی کے حامل خطے میں براہموس میزائل جیسے دوہری صلاحیت کے حامل ہتھیاروں کا استعمال انتہائی تشویش ناک ہے۔

سفیر پاکستان نے خبردار کیا کہ خدشات اور غلط فہمیوں پر مبنی کوئی بھی فیصلہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ انڈو پیسیفک سے متعلق اعلانیہ بھارتی پوزیشن کے باوجود اس کی فوجی صلاحیت کا بڑا حصہ پاکستان کے خلاف ہی کارفرما ہے۔ مئی کے بحران پر قابو پانے کے حوالے سے امریکی صدر کی سیاسی بصیرت اور ذاتی دلچسپی کو انہوں نے لائق تحسین قرار دیا۔

رضوان سعید شیخ نے زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی توجہ طلب اور حل طلب مسئلہ کشمیری عوام کا حق خودارادیت ہے، جبکہ پائیدار علاقائی امن اور استحکام کے لیے امریکہ کی مسلسل شمولیت اور وابستگی انتہائی اہم ہے۔

دہشت گردی سے متعلق گفتگو میں سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ ان کے مطابق سال 2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سال 2025 میں ان واقعات میں مزید 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے انخلاء کے وقت پیچھے رہ جانے والے جدید اسلحے کے غلط استعمال سے پاکستان کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ملاقات میں دونوں فریقین نے دوطرفہ مفادات سے متعلق امور پر ادارہ جاتی اور منظم مکالمے کے عمل کو جلد از جلد استوار کرنے پر اتفاق کیا۔