امریکہ کی افغانستان میں چھوڑے ہتھیار کالعدم ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگنے کی تصدیق

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ)ایک تازہ امریکی نگرانی رپورٹ کے مطابق، 2021 میں افغانستان سے انخلاء کے دوران امریکہ کی طرف سے افغان فورسز کو فراہم کردہ اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار اور عسکری ساز و سامان اب کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسندوں کے پاس پہنچ چکے ہیں، جس سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں شدت آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی امداد کی مد میں 2002 سے 2021 تک افغانستان کی تعمیر نو اور سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے تقریباً 144.7 ارب ڈالر فراہم کیے گئے، مگر ان سب کا مثبت نتیجہ نہ نکلا۔

ان میں سے تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا فوجی ساز و سامان — بشمول ہزاروں گاڑیاں، لاکھوں چھوٹے ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور 160 سے زائد طیارے — انخلاء کے وقت افغانستان میں چھوڑ دیا گیا تھا، جو بعد میں طالبان کے قبضے میں چلے گئے۔

امریکی اور اقوام متحدہ کی نگرانی رپورٹس، اور ایک تفتیشی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس سامان میں سے بعض ہتھیار پہلے ہی کالعدم ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔

مثال کے طور پر، پاکستان میں ضبط کیے گئے کم از کم 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبروں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اسی امریکی فراہم کردہ ساز و سامان کا حصہ تھے جو افغانستان میں دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں اور مسلح کارروائیوں میں واضح اضافہ ہوا ہے، جن میں ٹی ٹی پی سمیت مختلف عسکریت پسند تنظیمیں ملوث رہی ہیں۔

“نتائج اور خطرات”
یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان سے انخلاء کی تیاری مکمل نہ تھی اور امریکی فراہم کردہ عسکری ساز و سامان کی مناسب نگرانی ممکن نہ رہی۔اس سے نہ صرف افغانستان کا امن و استحکام متاثر ہوا، بلکہ اس کے اثرات پورے خطے، خصوصاً پاکستان اور خطے کی سیکیورٹی پر منفی پڑے۔برائے نام امداد اور تعمیر نو کی کوششیں، جن کا مقصد افغان عوام اور سیکورٹی فورسز کی حمایت تھا، بدقولتی اور غیر مؤثر پالیسیوں کی وجہ سے ناکام ثابت ہوئیں۔

“حکومت اور عالمی برادری کیلئے درخواست”
پاکستان حکام اور بین الاقوامی برادری کو چاہئے کہ اس رپورٹ کی روشنی میں فوری اقدامات کریں تاکہ اس ہتھیاروں کی منتقلی اور سمگلنگ کی تحقیقات ہو سکیں اور ذمہ دار افراد کیخلاف کاروائی کی جائے۔خطے کی سیکیورٹی کے پیش نظر فوجی ساز و سامان کی منتقلی اور نگرانی کے معیار کو سخت کرنا ہوگا، تاکہ مستقبل میں ایسے اقدامات دوبارہ دہرائے نہ جائیں۔