امریکہ:ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کیخلاف نیویارک و لاس اینجلس میدانِ احتجاج بن گئے

نیو یارک (نمائندہ خصوصی) امریکہ بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں کے خلاف زبردست عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ نیویارک، شکاگو، اور لاس اینجلس سمیت متعدد بڑے شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

نیویارک میں فیڈرل بلڈنگ کے سامنے ہزاروں افراد کا اجتماع
ڈاؤن ٹاؤن مین ہیٹن کی فیڈرل بلڈنگ کے سامنے ہزاروں افراد نے ٹرمپ حکومت کی امیگریشن پالیسی اور غیر قانونی افراد کی گرفتاریوں کے خلاف پُرامن احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی، انسانی حقوق اور مساوات کے حق میں نعرے درج تھے۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئےلاٹھی چارج کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ مظاہرہ رات گئے تک جاری رہا اور پولیس و مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

شکاگو میں تصادم، درجنوں گرفتاریاں
شکاگو میں بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ شام سے شروع ہونے والا احتجاج رات گئے تک جاری رہا، جس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ متعدد مقامات پر راستے بند کیے گئے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

لاس اینجلس میں فوج طلب کرفیو نافذ
ادھر لاس اینجلس میں گزشتہ چند دنوں سے جاری مظاہروں نے شدید صورت اختیار کر لی ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کیلئے ٹرمپ نے نیشنل گارڈ کے بعد فوج کو بھی طلب کر لیا ہے۔رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کرفیو کیخلاف ورزی کرنے والے 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے پولیس اور دیگر اداروں کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا جبکہ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

صدر ٹرمپ کا سخت ردعمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہروں میں شامل افراد کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرتشدد احتجاج کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔ آئندہ دنوں میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیاں مزید تیز ہوں گی جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

احتجاج کا دائرہ کار پورے امریکہ میں پھیلنے کا امکان
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ کی جانب سے سخت گیر پالیسیوں اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ مظاہرے امریکہ کے دیگر حصوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں