امریکی امیگریشن حراست کے دوران سال کے پہلے 10 دنوں میں 4 تارکینِ وطن ہلاک

واشنگٹن(نمائندہ خصوصی) امریکا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی تحویل میں سال 2026 کے پہلے 10 دنوں کے دوران قانونی حیثیت نہ رکھنے والے چار تارکینِ وطن ہلاک ہو گئے۔ امریکی محکمۂ داخلی سلامتی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پیراڈی لا، لوئیس بیلتران یانیز کروز، لوئیس گستاوو نونیز کاسیرس اور جیرالڈو لوناس کیمپس شامل ہیں۔

محکمۂ داخلی سلامتی کے مطابق 46 سالہ پیراڈی لا منشیات کے مسلسل استعمال کے باعث شدید ویڈراول کی کیفیت میں مبتلا ہونے کے بعد غیر ہوش ہو گئے تھے۔ انہیں فلاڈیلفیا کے قریب ایک اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ 7 جنوری کو دل بند ہونے کے بعد دماغی آکسیجن کی کمی، شاک اور متعدد اعضا کی ناکامی کا شکار رہے اور دو دن بعد انتقال کر گئے۔ اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی اور انہوں نے اسپتال میں ان سے ملاقات بھی کی۔

68 سالہ لوئیس بیلتران یانیز کروز 6 جنوری کو سینے میں درد کے باعث کیلیفورنیا کے جان ایف کینیڈی میموریل اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد انتقال کر گئے، جبکہ 42 سالہ لوئیس گستاوو نونیز کاسیرس 5 جنوری کو ہیوسٹن میں دل کے دائمی عارضے کے علاج کے دوران دم توڑ گئے۔ 55 سالہ جیرالڈو لوناس کیمپس مونٹانا میں طبی پیچیدگی کے باعث ہلاک ہوئے، جن کی موت کی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں۔

امریکی محکمۂ داخلی سلامتی کے حکام کا کہنا ہے کہ آئی سی ای اپنی تحویل میں موجود تمام افراد کو محفوظ، انسانی اور طبی سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہے اور کسی بھی مرحلے پر ہنگامی طبی امداد سے انکار نہیں کیا جاتا۔

دوسری جانب امیگریشن کے حقوق کیلئے سرگرم کارکنوں نے ان اموات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈیٹینشن واچ نیٹ ورک کی ایڈووکیسی ڈائریکٹر ستارہ غندہری کے مطابق گزشتہ برس آئی سی ای کی حراست میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ صرف 2026 کے ابتدائی 10 دنوں میں چار اموات ہونا نہایت تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے۔