امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کا اختتام، ٹرمپ نے بل پر دستخط کر دیے

وفاقی ملازمین کو جمعرات سے کام پر واپسی کی اجازت، ہیلتھ کیئر سبسڈی پر ڈیڈلاک برقرار

واشنگٹن (ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک قانون پر دستخط کرکے ملک کی تاریخ کے طویل ترین سرکاری شٹ ڈاؤن کا باضابطہ خاتمہ کردیا۔ اس سے قبل ایوانِ نمائندگان نے بل منظور کیا جس کے تحت فوڈ ایڈ پروگرام بحال ہوں گے، وفاقی ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جائیں گی اور ایئر ٹریفک کنٹرول نظام دوبارہ فعال کیا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق، ری پبلکن اکثریت والے ایوان نے یہ بل 222 کے مقابلے میں 209 ووٹوں سے منظور کیا۔ اگرچہ ٹرمپ کی حمایت نے پارٹی کو متحد رکھا، تاہم ڈیموکریٹس کی شدید مخالفت برقرار رہی۔ ان کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ہیلتھ انشورنس سبسڈی میں توسیع کا معاہدہ ناکام رہا۔

“وفاقی ادارے بحالی کے مرحلے میں”
یہ قانون اب 43 روزہ شٹ ڈاؤن کے خاتمے کا باعث بنا ہے۔ توقع ہے کہ جمعرات سے وفاقی ملازمین اپنی ملازمتوں پر واپس آئیں گے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام سرکاری خدمات اور ادارے مکمل طور پر بحال ہونے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔بل کے تحت حکومت کو 30 جنوری تک فنڈنگ ملے گی، جب کہ امریکا کا قومی قرضہ 380 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

“ری پبلکن اراکین کی طنزیہ گفتگو”
ری پبلکن رکن ڈیوڈ شوئیکرٹ نے طنز کرتے ہوئے کہا”مجھے لگتا ہے ہم کسی سٹ کوم میں ہیں، 40 دن گزر گئے اور اب تک سمجھ نہیں آیا کہ کہانی کیا تھی۔”انہوں نے مزید کہا”یہ دو دن کی ناراضی ہونی چاہیے تھی، مگر لگتا ہے اب غصہ ہی پالیسی بن گیا ہے۔”

“ہیلتھ کیئر پر کوئی واضح پیش رفت نہیں”
ڈیموکریٹس نے حالیہ انتخابی کامیابیوں کے بعد امید ظاہر کی تھی کہ وہ ہیلتھ انشورنس سبسڈی میں توسیع کیلئے دباؤ بڑھا سکیں گے۔ مگر ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اس حوالے سے کسی ووٹ یا وعدے سے گریز کیا۔

ڈیموکریٹ رکن میکی شیریل نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا”یہ ایوان کسی ایسی انتظامیہ کا رسمی مہر ثبت ادارہ نہ بنے جو عوام سے صحت اور بچوں سے خوراک چھینتی ہے۔”

“عوامی ردعمل اور سیاسی اثرات”
ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں ہی ایک دوسرے کو شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔رائٹرز/اپسوس کے سروے کے مطابق 50 فیصد امریکی ری پبلکنز جبکہ 47 فیصد ڈیموکریٹس کو قصوروار سمجھتے ہیں۔

“ایپسٹین ریکارڈز پر نیا تنازع”
ایوان میں حکومت کی فنڈنگ کی منظوری کے فوراً بعد جیفری ایپسٹین کے خفیہ ریکارڈز جاری کرنے کے مطالبے پر نیا تنازع پیدا ہو گیا۔ اسپیکر جانسن اور صدر ٹرمپ دونوں اس اقدام کی مزاحمت کر رہے ہیں۔

“نئے قانون کے مطابق”
وفاقی اداروں کو عارضی طور پر فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔
سینیٹرز کو پرائیویسی کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا حق ہوگا۔
کسی بھی سینیٹر کے فون ڈیٹا تک بلا اجازت رسائی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

یہ شٹ ڈاؤن امریکی سیاسی تقسیم کی گہرائی کو واضح کرتا ہے۔ اگرچہ بل کی منظوری سے وقتی بحران ختم ہوا، لیکن ہیلتھ کیئر اور حکومتی شفافیت جیسے بڑے مسائل بدستور حل طلب ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر سیاسی مفاہمت نہ ہوئی تو آئندہ بجٹ سیشن میں ایک اور شٹ ڈاؤن کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں