کابل(نمائندہ خصوصی)افغان وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی شہری عامر امیری کو جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جبکہ قطر کی حکومت نے بھی رہائی کے عمل میں سہولت فراہم کی۔
افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں امریکی وفد کو بتایا کہ امریکی شہری عامر امیری کو رہا کردیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان حکومت شہریوں اور قیدیوں کے مسائل کو سیاسی زاویے سے نہیں دیکھتی بلکہ سفارت کاری کے ذریعے ان مسائل کے حل کی کوشش کرتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یرغمالیوں کے معاملات کیلئےخصوصی ایلچی ایڈم بولر نے امریکی شہری کی رہائی کو خوشگوار لمحہ قرار دیا اور کابل و واشنگٹن کے درمیان پچھلے مذاکرات کو تعمیری قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باقی مسائل پر بات چیت جاری رہے گی۔
افغان وزارت خارجہ نے بتایا کہ امریکی وفد نے اپنے آخری دورۂ کابل میں امریکی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ طالبان رہنماؤں نے گوانتانامو بے میں قید افغان شہری محمد رحیم کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی وفد اصولی طور پر ان کی رہائی پر متفق ہوگیا تھا، تاہم افغان وزارت کے حالیہ بیان میں اس پر کوئی وضاحت شامل نہیں تھی۔
طالبان حکام کے مطابق اس ماہ کے آغاز میں افغانستان میں قید ایک برطانوی معمر جوڑے کو بھی صحت کے خدشات کے باعث رہا کردیا گیا تھا۔ 80 سالہ پیٹر رینالڈز اور ان کی 76 سالہ اہلیہ باربرا فروری میں گرفتار کیے گئے تھے، تاہم ان کی گرفتاری کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ رہائی کے بعد باربرا نے کابل ایئرپورٹ پر کہا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا اور وہ اپنے بچوں سے ملنے کے منتظر ہیں۔
افغان حکومت کے مطابق امریکی شہری عامر امیری کی رہائی ایک مثبت پیش رفت ہے جس میں قطر نے سہولت کاری کی، تاہم گوانتانامو بے کے قیدی محمد رحیم کی رہائی کے حوالے سے حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

