شکاگو+پورٹ لینڈ (اے ایف پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکاگو میں وفاقی اہلکار کی جانب سے مبینہ مسلح ڈرائیور پر فائرنگ کے بعد 300 نیشنل گارڈز تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کے خلاف عدالت نے پورٹ لینڈ میں فوجی تعیناتی کو روک دیا، جس سے امریکی شہروں میں بڑھتی لاقانونیت کے خلاف ٹرمپ کی عسکری مہم میں کشیدگی سامنے آئی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایبیگیل جیکسن کے مطابق، صدر ٹرمپ نے وفاقی افسران اور اثاثوں کے تحفظ کیلئے نیشنل گارڈز کو تعینات کرنے کی منظوری دی۔اس فیصلے پر الینوئے کے سینیٹر ڈِک ڈربن نے اسے ’قومی تاریخ کا شرمناک باب‘ قرار دیا، جبکہ اوریگن کے سینیٹر رَون وائڈن نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
پورٹ لینڈ میں امریکی ضلعی جج کیرن امیرگٹ نے کہا کہ صدر کا فیصلہ حقائق سے غیر متعلق تھا اور ’معمول کی قانون نافذ کرنے والی فورسز‘ احتجاج سنبھال سکتی ہیں۔’آپریشن مڈوے بلیٹز‘ کے تحت شکاگو میں وفاقی ایجنٹس نے کئی علاقوں میں چھاپے مارے، نقاب پوش اور مسلح افراد کو تعینات کیا، جس کے باعث مظاہرے اور جھڑپیں ہوئیں۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق، وفاقی اہلکاروں کی گاڑیوں پر مبینہ مسلح ڈرائیور نے حملہ کیا، جس پر اہلکاروں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔ زخمی ڈرائیور مقامی اسپتال منتقل ہوئی۔شکاگو پولیس نے بتایا کہ وفاقی ایجنٹس اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں، جبکہ مظاہرین بعد میں منتشر ہو گئے۔
گزشتہ ماہ، اسی مہم کے دوران شکاگو میں ایک ٹریفک اسٹاپ کے دوران تارکِ وطن سیلویریو ویلیگاس گونزالیز کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا، جسے آئیس اہلکار مبینہ طور پر موقع سے فرار کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی عسکری مہم امریکی شہروں میں جرائم اور ہجرت کے خلاف کارروائی کیلئے جاری ہے، تاہم عدالتوں اور مقامی رہنماؤں کی مخالفت سے تنازعات اور قانونی پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔

