واشنگٹن ( نمائندہ خصوصی+رائٹرز) –امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قدامت پسند نوجوانوں کی سب سے بڑی تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے سی ای او اور شریک بانی چارلی کرک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں بدھ کی شام اس وقت پیش آیا جب 31 سالہ چارلی کرک طلبہ سے براہِ راست مباحثے میں مصروف تھے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کرک کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں “ایک حقیقی لیجنڈ” قرار دیا اور ان کے احترام میں پورے امریکا میں پرچم سرنگوں کرنے کا اعلان کیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایکس ہینڈل سے پرچم سرنگوں کیے جانے کی وڈیو بھی شیئر کی گئی۔

عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق چارلی کرک اسٹیج پر موجود تھے جب اچانک گولی چلنے کی آواز آئی، وہ اپنی گردن کو پکڑتے ہوئے کرسی سے گر پڑے، اور خون بہنے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حاضرین خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلے۔
یونیورسٹی ترجمان کے مطابق پولیس نے تصدیق کی ہے کہ کوئی مشتبہ شخص زیرِ حراست نہیں ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ اس سے قبل انتظامیہ نے اطلاع دی تھی کہ ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے، لیکن بعد ازاں اس کی تردید کر دی گئی۔
چارلی کرک نوجوان قدامت پسند سیاست میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ان کی تنظیم نے گزشتہ نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات کے دوران نوجوان ووٹروں کو ٹرمپ کی حمایت پر قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ واقعے کے وقت وہ اپنی 15 ایونٹس پر مشتمل مجوزہ ’امریکن کم بیک ٹور‘ کے پہلے پروگرام میں شریک تھے۔
یہ تقریب پہلے ہی متنازع بن چکی تھی اور ایک آن لائن پٹیشن میں یونیورسٹی انتظامیہ سے کرک کی تقریر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس پر تقریباً ایک ہزار دستخط جمع ہوئے تھے۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ “چارلی کرک ایک بہادر اور مخلص دوست تھے، ان کی موت نے امریکا کو سوگوار کر دیا ہے۔”

