واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکی محکمہ دفاع نے ایلون مسک کی کمپنی “ایکس اے آئی” سمیت اوپن اے آئی، گوگل (الفابیٹ) اور اینتھروپک کے ساتھ جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے لیے 20 کروڑ ڈالر مالیت کے معاہدے کر لئے۔ ان معاہدوں کا مقصد قومی سلامتی اور دفاعی اہداف میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے مصنوعی ذہانت کی ترقی میں سرکردہ 4 ٹیکنالوجی کمپنیوں — اوپن اے آئی، گوگل (الفابیٹ)، اینتھروپک اور ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی — کے ساتھ مجموعی طور پر 20 کروڑ ڈالر کے معاہدے کیے ہیں۔
محکمہ دفاع کے چیف ڈیجیٹل اینڈ اے آئی آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدے “ایجنٹک اے آئی ورک فلو” تیار کرنے کیلئےکیے گئے ہیں تاکہ انہیں قومی سلامتی کے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے استعمال کیا جا سکے۔
چیف ڈیجیٹل اینڈ اے آئی آفیسر ڈوگ میٹی نے کہا”مصنوعی ذہانت ہماری دفاعی صلاحیتوں کو ازسرنو تشکیل دے رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہمارے جنگجوؤں کو سہولت فراہم کرے گی اور مخالفین پر ہماری اسٹریٹجک برتری کو برقرار رکھے گی۔”
واضح رہے کہ امریکہ میں سرکاری ادارے وائٹ ہاؤس کے اپریل 2024 کے حکم نامے کے بعد اے آئی کے استعمال کو وسیع کر رہے ہیں، جس کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔ اس سے قبل، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 2023 میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کو منسوخ کیا تھا جس کے تحت اے آئی خطرات کو محدود کرنے کیلئے ڈیٹا افشاء کرنا لازم تھا۔
معاہدوں کے ساتھ ہی ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے بھی پیر کے روز “گروک فار گورنمنٹ” کے نام سے اپنی نئی مصنوعات متعارف کرائیں، جن میں جدید ماڈل “گروک 4” بھی شامل ہے۔ یہ ماڈل اب وفاقی، ریاستی، مقامی اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے دستیاب ہوگا۔
یاد رہے کہ پینٹاگون پہلے ہی گزشتہ ماہ اوپن اے آئی کے ساتھ بھی ایک معاہدے کا اعلان کر چکا ہے، جس کے تحت چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی کو قومی سلامتی کے شعبوں میں جدید اے آئی پروٹو ٹائپس تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
پیر کو کیے گئے معاہدے نہ صرف ان کمپنیوں اور امریکی حکومت کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بناتے ہیں، بلکہ وفاقی اداروں میں اے آئی کے استعمال سے متعلق مسابقتی عمل کے شکوک و شبہات کو بھی ختم کرتے ہیں۔
دوسری جانب، ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن نے مئی میں پینٹاگون پر زور دیا تھا کہ ایکس اے آئی جیسے کنٹریکٹس کو مکمل طور پر مسابقتی بنایا جائے، تاکہ شفافیت اور بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

