اوسلو (اے ایف پی/رائٹرز) ناروے کی نوبیل کمیٹی نے جمعہ کے روز وینیزویلا کی جمہوریت نواز رہنما ماریا کورینا ماچادوکو سال2025 کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا جس کے ساتھ ہی کئی ہفتوں سے جاری قیاس آرائیاں اختتام پذیر ہو گئیں۔
“نوبیل کمیٹی کے بیان کے مطابق”
“ناروے کی نوبیل کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ نوبیل امن انعام 2025 ماریا کورینا ماچادو کو دیا جائے۔ وہ یہ اعزاز وینیزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ، اور آمریت سے جمہوریت کی طرف پُرامن اور منصفانہ انتقالِ اقتدار کیلئے ان کی جدوجہد کے اعتراف میں حاصل کر رہی ہیں۔”
ماچادو کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خود کو امن انعام کا مستحق قرار دینے کی مہم عروج پر تھی۔ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں غزہ میں جنگ بندی کے اپنے منصوبے پر بین الاقوامی پذیرائی کے بعد یہ امید ظاہر کی تھی کہ انہیں اس سال نوبیل کمیٹی تسلیم کرے گی۔
تاہم نوبیل ماہرین اور مبصرین نے مسلسل اس امکان کو کمزور قرار دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی عمومی طور پر ان شخصیات یا تحریکوں کو ترجیح دیتی ہے جنہوں نے طویل المدتی امن، بین الاقوامی بھائی چارے اور ادارہ جاتی استحکام کے فروغ کیلئے عملی جدوجہد کی ہو، نہ کہ وہ جو عارضی یا سیاسی شہ سرخیوں کا باعث بنی ہوں۔
گزشتہ سال کا نوبیل امن انعام جاپانی تنظیم”نیہون ہیدانکیو” کو دیا گیا تھا — جو ایٹمی حملوں سے متاثرہ افراد کی ایک تحریک ہے جو کئی دہائیوں سے جوہری ہتھیاروں کے خلاف عالمی مہم چلا رہی ہے۔
واضح رہے کہ نوبیل امن انعام واحد ایسا نوبیل ایوارڈ ہے جو اوسلو (ناروے)میں دیا جاتا ہے، جبکہ طب، طبیعیات، کیمیا اور ادب کے نوبیل انعامات اسٹاک ہوم (سویڈن) میں دیے جاتے ہیں۔اقتصادیات کے شعبے کا انعام آئندہ پیر کو اعلان کیا جائے گا۔

