واشنگٹن(ایجنسیاں)امریکا کے ماہر خارجہ امور اور جنوبی ایشیا مائیکل کُوگل مین نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے 75 ممالک کے امیگرنٹ ویزوں پر کارروائی روکنے کا فیصلہ ایک ایسے چارٹ پر مبنی ہے جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر بیان میں مائیکل کُوگل مین کا کہنا تھا کہ اس چارٹ میں ان تارکین وطن برادریوں کی فہرست شامل ہے جو امریکا کی سرکاری امداد کا سب سے بڑا حصہ وصول کرتی ہیں، اور جن 75 ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں سے بیشتر کے نام اس چارٹ میں بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس چارٹ کے اعداد و شمار کہاں سے حاصل کیے گئے ہیں، جبکہ اس میں شامل بعض اعداد و شمار نہایت عجیب و غریب ہیں۔ ان کے مطابق چارٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا میں موجود تارک وطن پاکستانیوں میں سے 40 فیصد کو سرکاری امداد دی جاتی ہے، حالانکہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق پاکستانی نژاد امریکی ایک خوش حال برادری سمجھی جاتی ہے۔
مائیکل کُوگل مین نے مزید لکھا کہ امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے نیویارک میں ایک تقریب کے دوران بتایا تھا کہ امریکا میں شہریوں کی اوسط سالانہ آمدنی 64 ہزار ڈالر ہے، جبکہ امریکا میں مقیم پاکستانیوں کی اوسط آمدنی تقریباً 76 ہزار ڈالر ہے۔

