انداز حکمرانی؟

مجھے سمجھ نہیں آئی ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک اسسٹنٹ کمشنر کو اس کے سیکڑوں کولیگز اور اعلی افسران کے سامنے سخت الفاظ میں ڈانٹتے ہوئے اجلاس سے باہر نکال کر پنجاب کی بیورو کریسی کو کیا پیغام دیا ہے؟یہ کونسا انداز حکمرانی ہے جسے وہ اپنانا چاہتی ہیں؟پنجاب میں ابھی تک میاں شہباز شریف اور چودھری پرویز الہیٰ کے انداز حکمرانی کی مثالیں دی جاتی ہیں ،دونوں کا ایک دوسرے سے بالکل الٹ انداز تھا ، مجھے لگتا تھا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا انداز حکمرانی ان دونوں سے جدا ہےاور اسی وجہ سے مجھے انکی انتظامی اور ترقیاتی محاذ پر کامیابیاں بھی نظر آرہی تھیں مگر گزشتہ ایک اجلاس میں بیوروکریسی کے ساتھ ان کے رویے پر مجھے حیرت ہوئی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میں ترقیاتی اور انتظامی معاملات دوسرے تمام صوبوں سے بہتر ہیں مگر اس میں وزیر اعلیٰ کی محنت کے ساتھ ساتھ پنجاب کی بیوروکریسی کا بھی مکمل حصہ ہے ،ایک اچھی بیوروکریٹک اور کام کرنے والی ٹیم اس وقت چیف سیکرٹری زاہد زمان کی سربراہی میں بہترین کام کر رہی ہے اور ایسے وقت میں وزیر اعلیٰ کا حد سے زیادہ سخت رویہ ؟ ان کے وزیر ، مشیر تو شائد اس پر واہ واہ کر رہے ہوں گے مگر عملی طور پر یہ ایسا اقدام ہے جس نے بیوروکریسی کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، اجلاس سے نکالے جانے والے سسٹنٹ کمشنر لیہ کا تعلق صوبائی سروس سے ہے اور فیلڈ میں عمومی طور پر اسی سروس کے اسسٹنٹ کمشنرز بہترین رزلٹس دیتے ہیں ،پنجاب اور اسکی مٹی سے تعلق کی بنا پر اس سروس والے افسروں کا، عوامی لیڈرز اور معاشرے میں اثر رسوخ رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے اچھا تعلق ہوتا ہے ، یہ پنجاب کے کلچر اور روایات کو بھی بہتر سمجھتے ہیں جسکی وجہ سے انتظامی معاملات چلانے میں آسانی رہتی ہے، جس کا فائدہ حکومت وقت کو ہی پہنچتا ہے ،وفاقی سروس والے اکثر اسسٹنٹ کمشنرز کا تعلق دوسرے صوبوں سے ہوتا ہے اس لئے وہ اپنی سروس کے آغاذ میں فیلڈ کی بجائے سیکریٹیریٹ میں زیادہ بہتر کام کرتے ہیں، موجودہ صورتحال میں صوبے میں نچلی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز ہی اصل حکومت ہوتے ہیں ،میری نظر میں یہ نوجوان افسر نئے نئے سروس میں آئے ہوتے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کا جزبہ ان میں کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے اس لئے انکی حوصلہ افزائی سے زیادہ بہتر نتائج ملتے ہیں،مگر کسی جرم کے بغیر کسی ایک کو اجلاس سے اٹھا دینا ،جونیئر افسروں کو سینئرز کے سامنے بے عزت کرنا اور کمشنر لیول کے سینئرز افسران سے یہ سوال کہ آپ کر ہی کیا رہے ہیں ؟ اس سے آپ نے ان کمشنرز کے جونیئرز ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی نظروں میں انکی کیا اہمیت چھوڑی؟ میں سمجھتا ہوں اس وقت پنجاب میں بہترین کمشنرز ہیں اور وہ دن رات کام کر رہے ہیں ، اگر آپ کام کرنے والے افسران کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے تو پھر صوبہ کیسے چلے گا ؟

پنجاب کی انتظامی تاریخ میں ایسے اجلاس کم ہی ہوئے ہوں گے ، جنہوں نے بیک وقت اتنی توجہ، بحث اور بے چینی پیدا کی ہو گی جتنی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے ساتھ تین گھنٹے طویل اس ویڈیو لنک کانفرنس نے کی، اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے لہجے نے پورے سسٹم کو چونکا دیا، یہ ایک غیر معمولی حد تک سخت اجلاس تھا، اتنا سخت کہ میٹنگ کے بعد بیوروکریسی کے اندر یہ سوال گونجتا رہا کہ آیا حکومت اصلاح چاہتی ہے یا خوف؟ کارکردگی بڑھانا مقصود ہے یا مثالیں قائم کرنا؟ اس وقت پنجاب کو کھلے مین ہولز، آوارہ کتوں کے کاٹنے، خستہ حال انفراسٹرکچر اور قبضہ مافیا جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، یہ بھی سچ ہے کہ ان مسائل پر کئی جگہوں پر انتظامیہ کی غفلت نمایاں رہی مگر یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ پنجاب کی بیوروکریسی مکمل طور پر ناکام، غیر فعال یا بے حس نہیں،گزشتہ چند برسوں میں اسی بیوروکریسی نے سیلاب، مہنگائی، سیاسی عدم استحکام، امن و امان کے مسائل اور کئی دوسرے محاذوں پر محدود وسائل کے باوجود بہترین کام کیا ہے، وزیر اعلیٰ صاحبہ ہر افسر نااہل نہیں، ہر ڈپٹی کمشنر غافل نہیں، اور ہر اسسٹنٹ کمشنر بے خبر نہیں، مسئلہ اجتماعی کارکردگی کا ہے، مگر کچھ مقامات پر ناکامی کی قیمت صرف فیلڈ افسران سے وصول کرنا بھی مکمل انصاف نہیں، لیہ میں دو سالہ بچے کی کھلے گڑھے میں گر کر موت یقیناً ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، ایسے واقعات پر سختی ہونی چاہیے، اور ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے،مگر ایک کام کرنے والے اچھے اسسٹنٹ کمشنر لیہ کو اجلاس سے اٹھا دینا اور فوری تبادلہ، یہ ایک ایسا اقدام تھا جس نے پنجاب میں بیوروکریسی کے پورے سسٹم کو ایک نیگٹو پیغام دیا ہے ۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ کا بار بار یہ کہنا کہ “افسوسناک واقعات وقوع پذیر ہونے سے پہلے ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟ بالکل درست سوال ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے انتظامی ڈھانچے میں افسر کو وہ وسائل، اختیارات اور افرادی قوت بھی حاصل ہے جن کی بنیاد پر وہ ہر ممکن حادثے کو پہلے روک سکے؟کھلے مین ہول ایک دن میں بند نہیں ہوتے، آوارہ کتوں کا مسئلہ ایک حکم سے حل نہیں ہوتا اور خستہ حال انفراسٹرکچر صرف سرزنش سے ٹھیک نہیں ہوتا،اس کے لیے فنڈز، مشینری، افرادی قوت اور سب سے بڑھ کر سیاسی اور انتظامی ہم آہنگی درکار ہوتی ہے،آپ ایک طرف محکمہ تعلیم میں ایسے افراد کو آٹھ،آٹھ ،دس دس لاکھ روپے کی نوکریاں بانٹ رہے ہیں جو اپنے سابق عہدوں پر دو اڑہائی لاکھ تنخواہ لے رہے تھے،سوال یہ ہے کہ اس وقت چیف سیکرٹری سمیت پنجاب کا ایک افسر بھی اتنی تنخواہ لیتا ہے؟

انتظامی امور کے طویل مشاہدہ کے بعد مجھے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دشواری نہیں کہ فیلڈ افسران پر ان دنوں بہت زیادہ دباو ہے اور اب ہر افسر کی خواہش ہے کہ وہ فیلڈ میں اے سی ،ڈی سی لگنے کی بجائے ،سیکریٹیریٹ میں کسی عہدے پر کام کرے، انتظامی امور میں منتخب نمائندوں اور حکومتی پارٹی کے رہنمائوں کی مداخلت،مرضی کے فیصلے کرانے کی جستجو میں انتظامی افسر کو ریاست کے بجائے ذاتی ملازم سمجھ لیا جاتا ہے،اس روش سے کرپشن،من مانی،لاقانونیت کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے ،جہاں حکومت کے اہم افراد کے سامنے کوئی انتظامی افسر قانون ضابطے کی بات کرے اسے تبدیل کر دیا جاتا ہے ،جیسا کہ منڈی بہاالدین کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم کے ساتھ ہوا اسے حکومتی جماعت کے ایک رکن اسمبلی کی وجہ سے تبدیل کر دیا گیا حالانکہ وہ بہت اچھا کام کر رہے تھے۔

اس اجلاس کے بعد بیوروکریسی دل برداشتہ ہے، وجہ یہ نہیں کہ افسر احتساب سے ڈرتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ انہیں یہ احساس ہوا کہ ان کی محنت، مشکلات اور زمینی حقیقتوں کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا،سختی اگر یکطرفہ اور اعتراف صرف ناکامیوں کا ہو، تو پھر اعتماد ٹوٹتا ہے اور انتظامیہ اعتماد کے بغیر نہیں چلتی، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، اور گڈ گورننس، اس پر کوئی اختلاف نہیں مگر حکمرانی میں نیت کے ساتھ انداز بھی اہم ہوتا ہے۔