انڈونیشیا چین سے جے-10 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کا فیصلہ

جکارتہ(اے پی/رائٹرز/ایس سی ایم پی) — انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع سجافری سیامسودین نے اعلان کیا ہے کہ ملک چین سے چنگدو جے-10 لڑاکا طیارے حاصل کرے گا، جو بیجنگ سے انڈونیشیا کی گزشتہ ایک دہائی میں پہلی بڑی دفاعی خریداری ہوگی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جے-10 طیارے جلد ہی جکارتہ کی فضاؤں میں دکھائی دیں گے، البتہ طیاروں کی تعداد اور ترسیل کے شیڈول کے بارے میں تفصیلی معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ یہ اقدام انڈونیشیا کی فوجی جدید کاری کے دیرینہ منصوبے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیرِ دفاع نے وزارتِ دفاع کے دفتر میں میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ چین سے جے-10 طیارے حاصل کیے جائیں گے اور کہا کہ یہ طیارے جلد ہی عملی آپریشن میں آئیں گے، تاہم انہوں نے ابھی ترسیل یا نوعِ نوعیت کے بارے میں حتمی تفصیل نہیں بتائی۔ انڈونیشیا بزنس پوسٹ اور اے پی نے اس اعلان کی تفصیلات شائع کیں۔

“پس منظر اور جیوپولیٹکل اثرات”
یہ فیصلہ صدر پربووو سوبیانتو کے حالیہ ملک دورے اور چین کے ساتھ دفاعی مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انڈونیشیا کی جانب سے چینی طیارے خریدنے کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جکارتہ اپنی دفاعی فراہمی کے ذرائع میں تنوع لا رہا ہے — جو خطے میں توازن اور سفارتی لچک سے جڑا معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔

“پاک فضائیہ اور جے-10 کے عملی مظاہرے کا حوالہ”
رپورٹس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ چین کے تیار کردہ جے-10 طیاروں کی عالمی ساکھ میں اضافہ اس کے بعد ہوا جب پاکستان نے رواں سال مئی میں سرحدی جھڑپوں کے دوران جے-10 طیاروں سے بعض بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے — البتہ مختلف کھلے اور سرکاری دعوؤں میں تفصیلات مختلف رہیں اور آزاد ذرائع کی تصدیق اور تجزیاتی مطالعے جاری ہیں۔ یہی پیش رفت ممکنہ خریدار ممالک کے فیصلوں کو متاثر کر رہی ہے۔

“حکومتی مؤقف اور آئندہ کے امکان”
انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ جے-10 کے معاملے پر تکنیکی اور عملی جائزہ جاری ہے اور فضائیہ کی تکنیکی ٹیم اپنی رپورٹ مکمل کر رہی ہے۔ وزارتِ دفاع نے یہ بھی واضح کیا کہ جکارتہ ایک غیرجانبدار خارجہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور دفاعی ضروریات کے تحت مختلف ذرائع سے اسلحہ خریدنے کا حق رکھتا ہے۔

چین سے جے-10 کے حصول کا معاملہ انڈونیشیا کی فوجی جدید کاری اور خطے میں دفاعی توازن دونوں کے لیے اہم ہے۔ خریداری کی حتمی شرائط، تعداد اور ترسیل کے شیڈول کے بارے میں مزید باضابطہ اعلانات آنے پر ہی مکمل تصویر واضح ہو گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں