انکم ٹیکس میں کمی کا اعلان، 22 ملین افراد کو سالانہ بچت: مارک کارنی

اوٹاوا (وقائع نگارِ خصوصی ، رائٹرز، الجزیرہ، اکنامک ٹائمز)کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس میں انکم ٹیکس کی ابتدائی شرح میں کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ملک بھر کے 22 ملین سے زائد افراد براہِ راست مستفید ہوں گے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، انکم ٹیکس کی پہلی سطح کی شرح 15 فیصد سے گھٹا کر 14 فیصد کر دی گئی ہے۔ جاری سال کے باقی مہینوں (جولائی تا دسمبر) میں اوسط شرح 14.5 فیصد ہوگی، جب کہ 2026 سے یہ مستقل طور پر 14 فیصد ہو جائے گی۔

وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ یہ اقدام درمیانے طبقے کے افراد کو ریلیف فراہم کرنے کیلئےکیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، دو آمدنی والے خاندانوں کو سالانہ اوسطاً 840 ڈالر کی بچت حاصل ہوگی، جو روزمرہ کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔

وزیر خزانہ فرانسوا-فلپ شامپین نے بتایا کہ ٹیکس میں کمی سے آئندہ پانچ سال کے دوران عوام کو مجموعی طور پر 27 ارب کینیڈین ڈالر کا ریلیف حاصل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت ایسے مالی اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے جن کا براہِ راست فائدہ عوام کو ہو۔

کینیڈا ریونیو ایجنسی (CRA) نے نئی ٹیکس کٹوتی کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ ملازمین کو جولائی سے ہی اس کا فائدہ تنخواہوں میں حاصل ہو سکے۔ بصورت دیگر، یہ ریلیف اگلے سال ریفنڈ کی شکل میں دیا جائیگا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، مارک کارنی کی حکومت نے انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ متوسط طبقے پر سے ٹیکس کا دباؤ کم کیا جائے گا۔ الجزیرہ کے مطابق، یہ اقدام عوامی اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اکنامک ٹائمز نے لکھا ہے کہ اس سے وہ شہری سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے جن کی سالانہ آمدن 57375 ڈالر یا اس سے کم ہے۔

وفاقی حکومت نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف انفرادی مالیات میں بہتری آئے گی بلکہ قومی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں