آج ہی میڈیا پہ یہ خبر گرم ہے کہ حسینہ واجد سابقہ پر ائم منسٹر جو ہندوستان بھاگی ہوئی ہے اسے بنگلہ دیشی عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا اور بازاروں میں جلوس نکل پڑا کہ اسے بھارت سے واپس لا کر بنگلہ دیش میں پھانسی دی جائے ۔ کیا ایسا ممکن ہوگا ؟ ہندو پاکستان و بنگلہ دیش کی سیاست تو ایسی ہے کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بنادی جائے۔
بنگالا بوند و مجیب الرحمن کو اور اس کے خاندان کے اکثر افراد کو اپنے ہی جاں نثاروں نے بھون کے رکھدیا ۔ اس کے پیچھے کون تھا اور کس کا حکم بجالایا گیا ۔۔ غلام ملکوں میں یہ باتیں ڈھکی چھپی ہی رہتی ہیں۔ پاکستانی عوام میں جن کو مشرقی پاکستان سے ہمدردی رہی ہے وہ پھانسی کی اس سزا سے خوش ہورہے ہیں ۔ عوامی لیگ یا مکتی باہنی کے ہاتھوں لاکھوں غیر بنگالیوں کی شہادت یا قتل و غارت ان کے دھیان میں ہے ۔
یا وہ بنگالی جو مجیب اور حسینہ کے ظلم وستم کا شکار رہے ہوں، اور اک نئے باب کو کھولنا چاہتے ہوں وہ بھی اس خوشی میں شامل ہیں۔ ہر بار پاکستان کے عوام کبھی سری لنکا یا بنگلہ دیش یا ان ملکوں کی طرف دیکھتے ہیں جہاں بغاوت نے بدمعاش اور لٹیرے وقاتل حکمرانوں کو اپنی قربانیاں بھی دے کر حکومت سے باہر ہی نہیں نکالا بلکہ دنیا سے بھی روانہ کر دیا اور جہنم رسید کیا ۔
ایسا کیا پاکستان میں ممکن ہے؟ نہیں! کیونکہ آئین کو ڈائین بنا دیا گیا ہے ، ترمیمات اور ذاتی ترجیحات کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا اور اب تو صورتحال ایسی ہے کہ نہ عدالت، نہ پارلیمنٹ نہ سینیٹ نہ نظامت کسی کا کوئی اپنا رول نہیں۔ سب حکم کے پابند عسکریت کے ہیں مطلق العنان شہنشاہیت ہے۔۔ جمہوریت اور اسلامیت و انسانیت کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے ، سوان ہی حالات میں جیتے رہنا ہے یا مر مر کے جینا ہے !
شعبدہ بازوں، منافقوں ، مداریوں ، لٹیروں، زانیوں، قاتلوں، بے ضمیروں اور وطن فروشوں کو ساری قوت وسطوت میسر ہے اور ملک سے فرار ہو کر اپنے پورے خاندان بلکہ نسل در نسل تک کے لیے قومی خزانے سے چوری کا سر مایہ موجود ہے اس مافیہ کے لیے۔ سفید محل اور اس کے معاونین کی غلامی مبارک ہو۔ یہی لوگ زندہ و پائیندہ ہیں نجات دہندہ ہیں باقی سب بے حس بے ہمت مردود و مقروض اور ہیں مردہ باد !

