اولمپک چیمپئن سیفان حسن اور ہائلمریام کیروس نے سڈنی میراتھن میں نیا ریکارڈ قائم کردیا

سڈنی (رائٹرز/اسپورٹس ڈیسک) ہالینڈ کی اولمپک چیمپئن سیفان حسن اور ایتھوپیا کے ہائلمریام کیروس نے اتوار کے روز سڈنی میراتھن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیا کورس ریکارڈ بنایا اور ٹائٹل اپنے نام کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سڈنی میراتھن ورلڈ میراتھن میجرز سیریز کا حصہ بنی ہے۔

“خواتین کا ایونٹ”
رپورٹ کے مطابق سیفان حسن نے 2 گھنٹے 18 منٹ 22 سیکنڈ میں فنش لائن عبور کی اور کینیا کی سابق عالمی ریکارڈ ہولڈر بریگیڈ کوسگے کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ گزشتہ سال کی فاتح ورکینش ایڈیسہ تیسرے نمبر پر رہیں۔ یہ سیفان حسن کی چھ میں سے چوتھی میراتھن فتح ہے، جس میں گزشتہ سال پیرس اولمپکس کا ٹائٹل بھی شامل ہے۔

“مردوں کا ایونٹ”
مردوں کی دوڑ میں ایتھوپیا کے ہائلمریام کیروس نے اپنے ہم وطن اڈیسو گو بینا کو آخری لمحات میں پیچھے چھوڑتے ہوئے 2 گھنٹے 06 منٹ 06 سیکنڈ میں فتح حاصل کی۔ گو بینا دوسرے جبکہ لیسوتھو کے تیبیلو راما کونگوانا تیسرے نمبر پر رہے۔ گزشتہ سال 40 برس کے ہونے والے کینیا کے لیجنڈ ایلیوڈ کچوگے 2 گھنٹے 08 منٹ 31 سیکنڈ میں نویں نمبر پر رہے۔

“ریس کی تفصیلات”
سڈنی میراتھن میں 35 ہزار رنرز نے شرکت کی، جہاں دھوپ اور خوشگوار موسم نے مقابلے کو مزید جاندار بنایا۔ یہ ریس اب نیویارک، لندن، بوسٹن، شکاگو، ٹوکیو اور برلن کے ساتھ ایلیٹ سرکٹ کا حصہ ہے۔ راما کونگوانا نے ابتدا میں قیادت کی لیکن جلد ہی وہ نمایاں رنرز کے گروپ میں شامل ہوگئے۔ نوجوان گو بینا نے 30 کلومیٹر کے بعد رفتار تیز کی مگر کیروس ڈٹے رہے اور آسٹریلیا کی سرزمین پر اب تک کا سب سے تیز میراتھن جیت کر فاتح بنے۔

“کھلاڑیوں کے تاثرات”
ہائلمریام کیروس نے کہا کہ “مقابلہ سخت اور میدان مضبوط تھا، ہم نے ساتھیوں کی طرح ایک ساتھ کام کیا اور بالآخر کامیاب ہوئے۔”

سیفان حسن نے کہا کہ “اگرچہ ابتدا میں تیز دوڑنے کی وجہ سے آخری حصے میں مشکلات پیش آئیں لیکن جیت کر میں خوش اور فخر محسوس کر رہی ہوں۔ یہ تاریخ ہے، پہلی بڑی سڈنی میراتھن اور میں پہلی فاتح ہوں۔”

“ریکارڈز”
سیفان حسن نے گزشتہ سال ایڈیسہ کے 2 گھنٹے 21 منٹ 41 سیکنڈ کے ریکارڈ کو توڑا، جبکہ کیروس نے 2024 میں کینیا کے برمن کِپکوری کے 2 گھنٹے 06 منٹ 18 سیکنڈ کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑا۔کچوگے نے ریس مکمل کرنے کے بعد کہا: “اگرچہ آج میرا دن نہیں تھا، لیکن 40 برس کی عمر میں دوڑنا ہی کامیابی ہے، آسٹریلیا کے لوگوں کو متاثر کرنا میرے لیے خوشی کی بات ہے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں