اونٹاریو (نمائندہ خصوصی)نیشنل ہاؤسنگ ڈے کے موقع پر ACORN ممبرز اور صوبے بھر کے کرایہ دار گروپس نے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ کی حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ “ہمارے گھروں سے ہاتھ ہٹو” اور بِل 60 کو فوری واپس لیا جائے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قانون بے دخلی کے عمل کو تیز کرے گا کرایہ داروں کے حقوق کمزور کریگااور صوبے میں بے گھری میں اضافہ کریگا۔
اونٹاریو کی اسمبلی نے پیر کے روز ڈگ فورڈ حکومت کا متنازعہ ہاؤسنگ بِل 60 منظور کیا حالانکہ کرایہ داروں کی تنظیمیں، ہاؤسنگ گروپس اور ماہرین اس کے سخت خلاف تھے۔ تنقید کرنے والوں کے مطابق یہ قانون مالک مکانوں کو بے حد طاقت دیتا ہے اور کرایہ داروں کو نکالنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیتا ہے۔
بِل 60 کے خلاف احتجاج کے دوران ACORN کینیڈا کے ارکان نے اسمبلی میں “منافع نہیں، انسان سب سے پہلے” کے نعرے لگائے، جس کے بعد سیکیورٹی نے گیلری خالی کروا دی تاکہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہو سکے۔
“ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے بعد”
لینڈلارڈ اینڈ ٹیننٹ بورڈ میں کرایہ دار نیا ثبوت پیش نہیں کر سکیں گے۔
اپیل کا وقت 30 دن سے کم کرکے 15 دن کر دیا گیا ہے۔
ذاتی استعمال کیلئے کرایہ دار کو نکالنے کی صورت میں ایک ماہ کا کرایہ بطور معاوضہ دینے کی لازمی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
سماعتوں میں کرایہ دار اپنا دفاع بھی تب کر سکیں گے جب وہ مقدمے میں مالک مکان کے دعوے کا 50 فیصد پہلے جمع کرائیں۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ بِل 60 ہاؤسنگ کی سپلائی بڑھے گا، مقابلہ پیدا کرے گا اور نظام کو زیادہ موثر بنائے گا۔ ہاؤسنگ وزیر راب فلیَک نے کہا کہ “زیادہ تر مالک مکان اور کرایہ دار اپنے معاہدوں کا احترام کرتے ہیں، چند برے عناصر پورے نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ بِل 60 نظام میں اصلاحات لائے گا۔”
این ڈی پی کی ہاؤسنگ شیڈو وزیر کیتھرین میک کینی نے بِل کی منظوری کو “کرایہ دار مخالف قدم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بے دخلی میں تیزی آئے گی اور بڑی کمپنیوں کو مزید طاقت ملے گی۔
ہفتے کے روز سینکڑوں افراد نے کوئنز پارک کے باہر احتجاج کیا جبکہ میئر اولیویا چاؤ اور ٹورنٹو سٹی کونسل نے بھی بِل کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون کرایہ داروں کے حقوق کمزور کرتا ہے اور ہاؤسنگ بحران کو مزید بڑھا دے گا۔

