کُوینز پارک (نمائندہ خصوصی)اونٹاریو لبرل پارٹی کی اسپتالوں سے متعلق تنقید نگار (Critic) ایم پی پی لی فئیرکلاف (Lee Fairclough) نے فورڈ حکومت کے خزاں کے معاشی بیان (Fall Economic Statement) پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایک بار پھر صحت کے شعبے کو ترجیح دینے میں ناکامی دکھائی ہے، جبکہ صوبے کے اسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ایم پی پی فئیرکلاف نے کہا”میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا زیادہ تر حصہ اونٹاریو کے اسپتالوں میں کام کرتے ہوئے گزارا ہے، اس لیے مجھے بخوبی علم ہے کہ ہمارا نظامِ صحت کس قدر دباؤ میں ہے اور آج کا معاشی بیان اس بوجھ کو کم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا۔”
انہوں نے کہا کہ صوبے بھر کے اسپتال غیر معمولی دباؤ میں ہیں۔ فنانشل اکاؤنٹیبلٹی آفس (FAO) پہلے ہی تصدیق کر چکا ہے کہ اونٹاریو کا نظامِ صحت رواں سال 3.4 ارب ڈالر کی کمی کا شکار ہے، جبکہ اگلے سال صرف اسپتالوں کو ایک ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہوگا۔
ایم پی پی فئیرکلاف نے مزید کہا”2025 کا اونٹاریو ہیلتھ بجٹ اُن حقیقی دباؤ کے مطابق نہیں ہے جن کا سامنا اسپتالوں کو ہے چاہے وہ طبی افراطِ زر ہو، آبادی میں اضافہ یا عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد۔ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو بھیڑ مزید بڑھے گی، انتظار کے اوقات طویل ہوں گے، اور مریضوں کو راہداریوں میں علاج کرانا پڑے گا۔”
انہوں نے نشاندہی کی کہ اونٹاریو پورے کینیڈا میں فی کس صحت پر سب سے کم خرچ کرنے والا صوبہ ہے۔
“ہمارے اسپتال اور طبی عملے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ہر ڈالر کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے لیکن ہم اپنے نظام کو مزید بھوکا نہیں رکھ سکتے۔ یہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ترجیحات کی کمی ہے۔ حکومت چاہے تو علاج پر سرمایہ کاری کر سکتی ہے — رقم موجود ہے، صرف ارادہ نہیں۔”
فئیرکلاف نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ عوامی فنڈز اندرونی حلقوں کو فائدہ پہنچانے کیلئےاستعمال کر رہی ہے، بجائے اس کے کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے۔”اگر یہ حکومت اپنے دوستوں کی مدد کیلئےتیزی سے کارروائی کر سکتی ہے، تو اسے ہمارے اسپتالوں کی مدد کیلئےبھی اتنی ہی تیزی دکھانی چاہیے۔”
آخر میں انہوں نے زور دیا”میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ فوراً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے تاکہ اسپتالوں کو مستحکم کیا جا سکے، مریضوں کی دیکھ بھال کو محفوظ بنایا جا سکے، اور یہ یقینی بنایا جائے کہ جب عوام کو ضرورت ہو تو ہمارا نظامِ صحت ان کیلئےموجود ہو۔”

