اوٹاوا :امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے کینیڈا پر 25 فیصد ٹیرف عائدکرنے کے بیانات کے بعد کینڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جوابی پریس کانفرنس کی اور امریکی صدرکے کینیڈامخالف اقدامات پراپناردعمل دیا.
وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اوٹاوا کی طرف سے امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی کا اعلان کردیا۔ کینیڈا کا 155 بلین ڈالر مالیت کی امریکی اشیا پر بھی 25 فیصد محصولات کا ٹیکس لگائے گا.کینیڈا امریکی درآمدات میں کینیڈا کے 155 بلین ڈالر پر 25 فیصد ٹیرف لگائے گا.

کینیڈا کے 30 بلین ڈالر منگل سے اور باقی 21 دنوں میں لاگو ہوں گے۔ کینیڈین وزیراعظم نے کہامیں نے اپنے وزیر اقتصادیات سے کہا تھا کہ “پلان بی کو لاگو کردے جس پر ہم کام کر رہے ہیں.جسٹن ٹروڈو نے کہا کینڈا نے میکسیکو کے مفادات کے دفاع میں بھی ٹیرف اور نان ٹیرف اقدامات شامل کئے ہیں.
حکومت کے خلاف وائٹ ہاؤس کی طرف سے کی گئی بہتان کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔ٹرمپ نے منگل کو کینیڈا اور میکسیکو کی تمام اشیا پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، امریکہ نے کینیڈا کی انرجی مصنوعات پر صرف 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی تھی۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور میکسیکو کے صدر کلاڈیا شین بام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات کا اپنے اپنے اقدامات کے ساتھ جواب دے دیا .نئی اقتصادی پابندیوں کے بعد عالمی سپلائی چینز بھی نمایاں طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جوابی اقدام کے طور پر بیئر، وائن، لکڑی اور برقی آلات سمیت 155 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کردیا، جس کا آغاز منگل کو 30 ارب ڈالر اور 21 دن بعد 125 ارب ڈالر کی مصنوعات پر ہوگا۔
جسٹن ٹروڈو نے امریکی شہریوں کو متنبہ کیا کہ ٹرمپ کے ٹیکسز سے ان کی گروسری اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، ممکنہ طور پر آٹو اسمبلی پلانٹس بند ہوجائیں گے اور نِکل ، پوٹاش ، یورینیم ، اسٹیل اور ایلومینیم جیسی اشیا کی فراہمی محدود ہوجائے گی۔انہوں نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ امریکا کا سفر ترک کردیں اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

