اوٹاوا :کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ٹونی بلڈنیلی کی بجٹ پر شدید تنقید

بجٹ میں نیاگرا کیلئے کچھ نہیں، عوام پر مہنگائی کا بوجھ ، وفاقی حکومت وعدوں سے منحرف ہو گئی: ٹونی بلڈنیلی

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) کنزرویٹو پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ ٹونی بلڈنیلی (Tony Baldinelli) نے وفاقی بجٹ پر سخت مایوسی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے “کینیڈین عوام پر مسلط کردہ مہنگائی کا بحران” قرار دیا ہے۔

پارلیمنٹ ہِل پر اپنی پریس کانفرنس میں ٹونی بلڈنیلی، جو نیاگرا فالس سے منتخب ہوئے ہیں، نے کہا کہ حکومت نے اپنے تمام وعدے توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارک کارنی اور ان کی ٹیم نے خسارے اور اخراجات کے بارے میں جو یقین دہانیاں کرائی تھیں، وہ سب غلط ثابت ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ”وعدہ کیا گیا تھا کہ خسارہ 62 ارب ڈالر ہوگا، لیکن اصل خسارہ 78 ارب ڈالر ہے، حکومت نے کم خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس نے 90 ارب ڈالر زیادہ خرچ کیے — یعنی ہر کینیڈین گھرانے پر 5 ہزار 400 ڈالر کا اضافی بوجھ۔”

بلڈنیلی نے بتایا کہ محض قرضوں کے سود کی ادائیگی پر حکومت 55.6 ارب ڈالر خرچ کرے گی، جو پورے ملک کے ہیلتھ کیئر بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے اسے “شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رقم عوامی فلاح کے بجائے قرض کے سود میں ضائع ہو رہی ہے۔

اپنے خطاب میں ٹونی بلڈنیلی نے واضح کیا کہ بجٹ میں نیاگرا کیلئے کوئی خاطر خواہ رقم مختص نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ”نہ Wine Sector Support Program کیلئے کوئی فنڈ رکھا گیا، نہ Shaw Festival کیلئے، اور نہ ہی نیاگرا فالس کیلئےانتہائی ضروری wastewater treatment facility کو کوئی رقم دی گئی۔”

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اس بجٹ نے نیاگرا جیسے علاقوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے، جو کینیڈا کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ٹونی بلڈنیلی نے آخر میں کہا کہ کنزرویٹو پارٹی اس بجٹ کی حمایت نہیں کرے گی کیونکہ “یہ بجٹ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اُن پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں