اوٹاوا(نامہ نگار)امریکہ کی جانب سے درآمد شدہ ٹرکوں اور بسوں پر بھاری ٹیرف نافذ کیے جانے کے بعد کینیڈا کی آٹو اور ہیوی وہیکل انڈسٹری شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
امریکی انتظامیہ نے حال ہی میں درآمدی ٹرکوں پر 25 فیصد اور بسوں پر 10 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ یہ اقدام سیکشن 232 نیشنل سیکیورٹی قانون کے تحت کیا گیا ہے، جسےڈونلڈ ٹرمپ نے”قومی سلامتی کے تحفظ” کے نام پر جائز قرار دیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ دراصل امریکی پروٹیکشن ازم (Protectionism) کی نئی شکل ہے جو “امریکہ فرسٹ” پالیسی کو تقویت دینے کیلئےاستعمال ہو رہی ہے۔
کینیڈا کی وزارتِ خزانہ کے مطابق، یہ ٹیرف USMCA (United States-Mexico-Canada Agreement) کے روح اور اصولوں کے منافی ہیں، کیونکہ ان سے شمالی امریکہ کی مشترکہ صنعتی سپلائی چین کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اقدام کے خلاف تجارتی تنازعہ حل کرنے کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہے۔
کینیڈین ٹرکنگ ایسوسی ایشن (CTA) اور دیگر صنعتی اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ ان ٹیرفس سے کینیڈا کی ہیوی وہیکل مینوفیکچرنگ صنعت کو “اقتصادی ایمرجنسی” کا سامنا ہے۔ ایڈیسن موٹرز کے مطابق ایک ٹرک پر عائد ٹیرف سے لاگت میں ایک لاکھ امریکی ڈالر تک اضافہ متوقع ہے جو براہِ راست کمپنیوں اور صارفین پر بوجھ بنے گا۔
دوسری جانب، کیوبیک میں Paccar کمپنی کی جانب سے سینکڑوں ملازمین کی برطرفی اس بحران کے حقیقی اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق یہ صرف تجارتی نہیں بلکہ روزگار اور پیداوار کا مسئلہ بھی ہے، کیونکہ ان ٹیرفس سے کینیڈا کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں پر غیر معمولی مالی دباؤ پڑ رہا ہے۔
تجزیاتی اداروں کے مطابق، اگر کینیڈا نے فوری طور پر صنعتی سبسڈی، “Buy Canadian” پالیسی، اور نئی داخلی مارکیٹ حکمتِ عملی نہ اپنائی تو طویل مدت میں یہ صنعت سکڑ سکتی ہے۔کینیڈین چیمبر آف کامرس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی فیصلے کے جواب میں متوازن حکمتِ عملی اپنائے، تاکہ ملکی صنعت، برآمدات اور روزگار کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

