اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) کینیڈا کی رکنِ پارلیمنٹ سونیا سدھو (برامپٹن ساؤتھ) نے صحت اور جدت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے کردار پر ایک اہم ورچوئل فورم کا انعقاد کیا، جس میں ملک بھر سے صنعت، طب، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے وابستہ قومی ماہرین نے شرکت کی۔
فورم کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ مصنوعی ذہانت کس طرح کینیڈا کے صحت کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے، جہاں اے آئی کے ذریعے بیماریوں کی بروقت تشخیص، کلینیکل نظام کی بہتری اور مریضوں کے لیے ذاتی نوعیت کی نگہداشت ممکن ہو رہی ہے۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ اے آئی کے استعمال میں ڈاکٹرز کی قیادت، شفافیت اور جوابدہی کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
ماہرین نے کینیڈین شہریوں کے صحت سے متعلق ڈیٹا کے تحفظ، مضبوط سائبر سیکیورٹی نظام اور اخلاقی ضابطۂ کار کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔ فورم میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت، صنعت اور صحت کے شعبے کے درمیان تعاون ہی اے آئی ٹیکنالوجی کے محفوظ، منصفانہ اور ذمہ دارانہ نفاذ کو یقینی بنا سکتا ہے۔
اس موقع پر ایم پی سونیا سدھو کا کہنا تھا کہ باہمی تعاون کے ذریعے کینیڈا جدت کے سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے سلامتی، رازداری اور عوامی اعتماد کے اعلیٰ ترین معیار قائم رکھ سکتا ہے۔ شرکاء نے رائے دی کہ اعتماد، تحفظ اور مساوات کے اصولوں کے ساتھ سرمایہ کاری جاری رہی تو کینیڈا مریض دوست اور ذمہ دار اے آئی جدت میں عالمی سطح پر قیادت کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
فورم سے حاصل ہونیوالی تجاویز ایم پی سونیا سدھو کی صحت سے متعلق پالیسی سازی میں معاون ثابت ہونگی، جن میں ڈیجیٹل ہیلتھ، طبی جدت اور ابھرتی ٹیکنالوجیز پر پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے آئندہ مباحث بھی شامل ہیں۔

