ایئر کینیڈا کے فضائی میزبانوں سے بغیر تنخواہ کام کرانے کا الزام،تحقیقات شروع

اونٹاریو(نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر پیٹی ہائیڈو نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کینیڈا ایئر لائن سیکٹر میں “بغیر معاوضے کے کام” سے متعلق الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایئر کینیڈا کے فضائی میزبان کئی دنوں سے ہڑتال پر ہیں اور ہزاروں پروازیں متاثر ہو چکی ہیں۔

“یونین کا بنیادی شکوہ”
فضائی میزبانوں کی نمائندہ یونین کا مؤقف ہے کہ ملازمین کو وہ وقت کا معاوضہ نہیں دیا جاتا جب طیارہ فضاء میں نہیں ہوتا، حالانکہ وہ اس دوران بھی مختلف ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں۔ وزیر ہائیڈو نے ان الزامات کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کے علم میں باضابطہ طور پر کوئی شکایت نہیں آئی لیکن اگر تحقیقات میں یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو حکومت ایسی خامیوں کو ختم کرنے کیلئے قانون سازی کرے گی۔

“تحقیقات میں وقت لگے گا”
وفاقی وزیر کے مطابق تحقیق کئی ہفتے جاری رہے گی جس کے دوران محکمے کے اہلکار مختلف ایئر لائنز اور یونینز سے بات کریں گے تاکہ اجتماعی معاہدوں کی مکمل تصویر سامنے آسکے۔

“ہڑتال اور حکومتی اقدامات”
چند روز قبل ہی وزیر ہائیڈو نے کینیڈا انڈسٹریل ریلیشنز بورڈ (CIRB) کو ہدایت کی تھی کہ ایئر کینیڈا اور یونین کے درمیان معاملہ “جبری ثالثی” کے ذریعے حل کیا جائے، لیکن یونین نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور ہڑتال جاری رکھی۔

“سیاسی ردعمل”
وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ وہ مایوس ہیں کہ فریقین معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کے مطابق فضائی میزبان مسافروں کی حفاظت کیلئےنہایت اہم ہیں اور انہیں ہمیشہ منصفانہ معاوضہ ملنا چاہیے۔

اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے اوٹاوا میں ملاقات کے بعد کہا کہ “ہر شخص ایک منصفانہ اجرت کا حق دار ہے” اور حتمی معاہدہ کارکنوں، کمپنی اور عوام سب کے مفاد میں ہونا چاہیے۔

“اقتصادی اثرات”
ماہرین کے مطابق ہڑتال کے باعث نہ صرف ہزاروں مسافر متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسے “معاشی جھٹکا” قرار دیا جا رہا ہے جس سے سیاحت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں