نیویارک(سی این این) رپورٹ کے مطابق ایران–اسرائیل کشیدگی کے بعد تیل کی عالمی طلب و رسد میں غیر معمولی عدم توازن پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں نازک صورتحال نے بھنگام پیدا کیا—یہ صرف 2022 سے روس–یوکرین جنگ کی صورتحال کے بعد تیل کی قیمتوں کا سب سے بڑا ایک روزہ اضافہ ہے ۔
امریکی تیل (WTI): تقریباً 7.26٪ بڑھ کر 72.98ڈالر فی بیرل ہوا ہے.
برینٹ کروڈ: تقریباً 7٪ اضافہ ہو کر 74.23 ڈالرفی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
دنیا بھر کے مارکیٹس میں عدم استحکام،اسٹاک مارکیٹس میں مندی اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ،ڈالر مضبوط ہوا ۔
توانائی و شپنگ لاگتوں میں اضافہ، جس سے بین الاقوامی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے ۔
بڑھتی توانائی کی قیمتوں سے فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں کمی کا امکان محدود ہو رہا ہے ۔
ہرمز تنگی اور سرخ سمندر میں امریکی ہوائی فائرنگ کے اثر سے تیل سپلائی پربھی خدشہ بڑھا ہے۔
اگر ایران اپنا تیل عالمی منڈی سے الگ کر دے تو فی بیرل 7.50 ڈالرکا مزید اضافہ متوقع ہے—کچھ تجزیہ کار 100ڈالر تیل کی بات کر رہے ہیں ۔
جب روس نے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر حملہ کیا، تب برینٹ 50 فیصد بڑھ کر 139ڈالر تک چلا گیا جبکہ WTI نے 52٪ اضافہ ریکارڈ کیا ۔موجودہ تنازع نے اس طرح کے صدمے کی ممکنہ واپسی کی پیشگوئی کی ہے۔
خطے میں امن و استحکام توانائی منڈیوں کیلئےبنیادی ہے۔ممالک کو متبادل خام تیل کے راستے تلاش کرنے چاہئیں تاکہ کسی ایک نقطے کا بحران پوری دنیا پر اثر نہ ڈالے . صرف وقتی امداد کے طور پرمستقل حل نہیں۔صنعتوں و حکومتوں کو فیوچرز اور آپشنز جیسے آلات سے خطرات کو محدود کرنا چاہیے ۔

