تہران (رائٹرز)خشک سالی کے باعث تہران کو خالی کرنے کے خدشات کے دوران ہی ایران کے مغربی حصوں میں شدید بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق کئی ماہ کی خشک سالی نے دہائیوں کے بدترین پانی کے بحران کو جنم دیا، جس کے بعد حکام نے ہفتے کے آخر میں مصنوعی بارش برسانے یعنی ’بادل برسانے‘ کا عمل شروع کیا۔
موسمیاتی ادارے نے پیر کے روز 6 مغربی صوبوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کی اور بتایا کہ ایران کے 31 میں سے 18 صوبوں میں بارش کا امکان ہے۔ ملک میں بارش کی مجموعی سطح اوسط سے 85 فیصد کم ہے، جس کے باعث آبی ذخائر خشک ہو رہے ہیں اور بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی بند ہو چکی ہے۔
حکام کے مطابق بدانتظامی، غیر قانونی کنوؤں کی کھدائی اور غیر مؤثر زرعی طریقے بھی بحران میں اضافے کا سبب بنے ہیں، جب کہ موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔ شدید خشک سالی کے باعث مٹی کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جانے سے اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے ایلام اور کردستان سمیت بعض مغربی علاقوں میں ہلکے درجے کے سیلاب کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔ ینگ جرنلسٹس کلب کے مطابق ہفتے کو ایران نے اس سال پہلی ’کلاؤڈ سیڈنگ‘ کارروائی جھیل ارومیہ کے بالائی علاقے میں کی جو شمال مغرب میں واقع ہے اورجہاں بعد ازاں سیلابی رپورٹس موصول نہیں ہوئیں۔
کلاؤڈ سیڈنگ میں مخصوص کیمیکلز بادلوں میں داخل کیے جاتے ہیں تاکہ بارش میں اضافہ ہو، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ایک مہنگا اور صرف عارضی حل ہے۔ موسمیاتی تنظیم کی سربراہ سحر تاج بخش نے بتایا کہ اس عمل سے ہونے والی بارش پانی کے بحران حل کرنے کیلئےدرکار مقدار سے بہت کم ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تہران میں کلاؤڈ سیڈنگ کیلئے موزوں حالات تاحال موجود نہیں، اور حکام کا کہنا ہے کہ اگر خشک سالی برقرار رہی تو دارالحکومت رہائش کے قابل نہیں رہے گا۔

