تہران(ایجنسیاں)ایران میں دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا ہے اور حالات بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل کالز بحال کر دی گئی ہیں تاہم انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے کسی قسم کے ملٹری آپریشن کی کوشش کی تو ایران مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران یہ نہیں سمجھتا کہ امریکا منصفانہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے۔ جرمن چانسلر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ برلن انسانی حقوق پر لیکچر دینے کے لیے سب سے بدترین مقام ہے، جرمن چانسلر وینزویلا کے صدر کے اغوا پر مسلسل خاموش رہے اور غزہ میں 70 ہزار شہادتوں پر خاموش رہنے والے جرمنی کو شرم آنی چاہیے۔
واضح رہے کہ ایران میں فسادات کے خاتمے اور حالات معمول پر آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانیوں کو دوبارہ احتجاج کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ٹرمپ نے ایران میں فساد برپا کرنے والوں کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین ایرانی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں اور امریکی مدد جلد پہنچنے والی ہے، جبکہ مظاہرین کو پھانسی دیے جانے کی صورت میں انتہائی سخت ردعمل کی دھمکی بھی دی۔

