تہران، واشنگٹن(ایجنسیاں) ایران میں جاری احتجاج کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرے جاری رکھیں اور اداروں کا کنٹرول سنبھالیں، جبکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں اور مدد راستے میں ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے ایران میں تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات پر وہ سخت صدمے میں ہیں۔
دوسری جانب امریکی کانگریس کے رکن رو کھنہ نے ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام جبر اور وسائل کے غلط استعمال پر برحق غصے میں ہیں، تاہم یکطرفہ امریکی حملے ایرانی حکومت کو قوم پرستی بھڑکانے کا موقع دیں گے۔
ادھر رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران دنیا کے سب سے زیادہ پابندیوں کا شکار ممالک میں شامل ہے۔ امریکا نے پہلی مرتبہ 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے اور یرغمالی بحران کے بعد ایران پر پابندیاں عائد کیں، بعد ازاں تیل کی درآمدات روک دی گئیں اور 12 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے منجمد کر دیے گئے۔ ان پابندیوں نے عام ایرانی شہریوں کی زندگیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

