ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پانچویں روز بھی جاری،7 افراد جاں بحق

تہران(اے پی+عرب نیوز)ایران کے مختلف شہروں میں مہنگائی، کرنسی بحران اور معاشی بدحالی کیخلاف احتجاج پانچویں روز بھی جاری ہے، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم7 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ احتجاج ملک کے دارالحکومت اور دیگر شہروں تک پھیل چکا ہے اور عوام نے شدید اقتصادی دباؤ، ریال کی گراوٹ اور زندگی کا بڑھتا ہوا خرچہ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اے پی نیوز کے مطابق ہلاکتوں میں کئی شہری شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کا ایک رکن بھی مارا گیا ہے۔ ہلاکتیں بدھ اور جمعرات کے دوران مختلف شہروں میں سامنے آئی ہیں، جب کہ ایران کے ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تاریخی سطح پر گِرتی جا رہی ہے۔

احتجاجات تہران، کوہدشت، آزنا اور دیگر علاقوں میں شدت اختیار کر چکے ہیں، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئےطاقت استعمال کی، اور متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ حکومت نے بتایا ہے کہ وہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے عوام کے جائز مطالبات کو سننے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ احتجاجات صرف مہنگائی تک محدود نہیں رہے، بلکہ معاشی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر عوام کا غم و غصہ بڑھ گیا ہے، جس کے باعث احتجاجیں ملک کے بڑے حصوں تک پھیل گئی ہیں۔

یہ مظاہرے ایران میں اقتصادی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کے بحران کے باعث پچھلے کچھ دنوں سے جاری تھے اور اب تک ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا ہے۔