تہران (خبرایجنسی )ایران کے شمال مغربی شہر بوکان میں نوعمر لڑکی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مجرم کو ہفتے کے روز عوامی مقام پر سرِعام پھانسی دے دی گئی۔ عدالتی احکام کے مطابق یہ فیصلہ متاثرہ خاندان کے مطالبے پر کیا گیا، جو قانونی کارروائی میں مکمل طور پر شریک رہا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں اور ایرانی عدلیہ کی نیوز ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم کو شمال مغربی ایران کے شہر بوکان میں ہفتے کے روز عوامی طور پر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
صوبہ مغربی آذربائیجان کے چیف جسٹس ناصر آتابتی نے بتایا کہ یہ کیس عوامی جذبات کو بری طرح مجروح کرنے والا تھا، جس کے باعث اس پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کی درخواست پر عدالت نے سرِعام پھانسی کا فیصلہ سنایا تھا، جو اب نافذ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مجرم کو مارچ میں عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی تھی، جس کی توثیق ایران کی اعلیٰ عدالت نے بھی کر دی تھی۔
ایران میں جنسی جرائم اور قتل جیسے سنگین مقدمات میں سرِعام پھانسیاں دینے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ ایسے مجرموں کو اکثر شہر کے چوراہوں یا عوامی مقامات پر تختہ دار پر لٹکایا جاتا ہے، تاکہ معاشرے میں عبرت اور قانون کا خوف پیدا کیا جا سکے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان اقدامات سے سنگین جرائم کی شرح میں کمی آتی ہے، جبکہ بعض شہری حلقے بھی ان سزاؤں کو مؤثر قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، خصوصاً ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایران میں سزائے موت کے کثرت سے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران، چین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پھانسیاں دینے والا ملک ہے، اور ان سزاؤں میں شفاف عدالتی عمل کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔
ایمنسٹی اور دیگر انسانی حقوق کے ادارے ایران سے سزائے موت ختم کرنے یا کم از کم اس کے نفاذ میں شفافیت اور عدالتی تقاضوں کو مکمل طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

