ایران نے اسرائیل پر ڈرون حملوں کی تردید کر دی – انتقامی کارروائی کا عندیہ

تہران(ایجنسیاں)ایران نے اسرائیل کی جانب سے کیے گئے بلا اشتعال فضائی حملے کے جواب میں کسی بھی قسم کے ڈرون حملے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے صیہونی ریاست کی جھوٹی پروپیگنڈا مہم قرار دیا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ”ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں کوئی ڈرون اسرائیل کی طرف نہیں بھیجے۔ صہیونی ریاست جان بوجھ کر بے بنیاد دعوے کر کے عالمی برادری کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔”

ایرانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ”ہم اسرائیلی جارحیت کا جواب مستقبل قریب میں مناسب وقت اور جگہ پر دیں گے، تاکہ دشمن کو سبق سکھایا جا سکے اور خطے کے امن کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔”

اسرائیلی پروپیگنڈہ اور حقیقت
اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ حملے کے بعد ایران نے تقریباً 100 ڈرونز اسرائیل پر بھیجے جنہیں اسرائیلی حدود سے باہر روک دیا گیا۔تاہم ایران نے ان رپورٹس کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل اس قسم کے بیانات دے کر اپنی جارحیت کو جواز دینے اور بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی قیادت کا مؤقف
ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ”اسرائیل اپنی احمقانہ اور سفاکانہ جارحیت پر سخت پچھتائے گا۔ اس جارحیت کا مؤثر، بھرپور اور تاریخی جواب دیا جائے گا۔”

اپنا تبصرہ لکھیں