ایران نے سلامتی کونسل اجلاس میں اسرائیل کی شرکت غیر ضروری قرار دیدی

نیویارک، اقوام متحدہ(ایجنسیاں)ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں اسرائیل کی شرکت کو غیر ضروری اور غیر موزوں قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کی موجودگی اس اہم سفارتی اجلاس کی روح کے منافی تھی۔

ایراوانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ“یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی۔ اسرائیل نے بلااشتعال اور غیرقانونی حملے کیے، جبکہ تہران نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جارحیت کا سامنا کیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا سول نیوکلیئر پروگرام اقوام متحدہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ہے اور اس پر حملہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ“سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر کی جانے والی جارحیت کی مذمت نہ کرنا انتہائی مایوس کن ہے۔”

ایرانی مندوب نے اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے (IAEA) سے ایران کے مکمل تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران سفارت کاری اور امن کے راستے پر گامزن رہنے کیلئے پُرعزم ہے۔

قطر کا کردار قابلِ تحسین قرار

اپنے خطاب کے اختتام پر، امیر سعید ایراوانی نے خطے میں جاری کشیدگی کو روکنے اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے قیام میں ثالثی کرنے پر قطر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا“میں برادردوست ملک قطر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جنگ بندی کے قیام، اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور خطے کے امن و استحکام کے تحفظ کیلئے مخلصانہ سفارتی کوششیں کیں۔”

یہ اظہارِ تشکر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے ایک روز قبل قطر میں واقع امریکی ایئربیس پر جوابی کارروائی کی تھی، جس کے بعد قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کیا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے ذریعے جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں