تہران(بیورورپورٹ)ایران نے ٹرمپ کی جانب سے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے خطرات اور پابندیوں کے خدشات کے دوران کئی ٹن سونا درآمد کر لیا۔الجزیرہ کے مطابق ایران گزشتہ چند مہینوں سے کئی ٹن سونا درآمد کر رہا ہے کیونکہ وہ امریکہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ”کی پالیسی کے تحت مزید مشکلات کا شکار ہورہاہے۔
ایران نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کیا ہے کیونکہ اسے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ پر پابندیوں کی وجہ سے کبھی نہ ختم ہونے والے معاشی طوفانوں کا سامنا ہے۔
ملک کی کسٹم انتظامیہ کے مطابق، 19 جنوری تک ایران نے کم از کم 81 میٹرک ٹن سونا درآمد کیا تھا۔ یہ مبینہ طور پر پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے قدر کے لحاظ سے 300 فیصد زیادہ اور وزن کے لحاظ سے 234 فیصد زیادہ ہے۔
فروری کے آخر میں، کسٹم کے نئے سربراہ فرود اصغری نے صحافیوں کو بتایا کہ سامان کی برآمد کیلئے سونے کی درآمدات 100 ٹن سے تجاوز کر گئی یعنی ملکی اشیا ایکسپورٹ کر کے سونا امورٹ کیا گیا۔ یہ پچھلے سال کےکل 30-ٹن کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ اضافے کا اشارہ ہے۔
سنٹرل بینک کے سربراہ محمد رضا فرزین نے دسمبر میں دعویٰ کیا تھا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا 20 فیصد سونے میں تبدیل ہو چکا ہے اور ایران کاشمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس کے پاس زرمبادلہ کیلئے سونے کے سب سے زیادہ ذخائر ہیں۔ ایرانی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے یہ سونا کہاں سے درآمد کیا یا اسے حاصل کرنے کیلئے کیا برآمد کیا۔

